spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
2 March, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

حکومت نے پہلی ششماہی میں بینکوں سے 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا، رپورٹ

کراچی: حکومت نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں بینکوں سے 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران شیڈول بینکوں سے 1.192 ٹریلین روپے یعنی تقریباً 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا۔

یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ جب حکومت نے بینکوں کو 1.255 ٹریلین روپے کا خالص قرضہ واپس کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان حکومت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 2.5 ٹریلین روپے کا منافع وفاقی حکومت کو منتقل کیا۔ اس کے باوجود حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے بھاری قرض لینا پڑا۔

اعداد و شمار کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس عرصے میں 6.159 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کیا۔ جو مقررہ ہدف 6.490 ٹریلین روپے سے تقریباً 331 ارب روپے کم ہے۔ تاہم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ٹیکس ریونیو میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جب وصولیاں 5.618 ٹریلین روپے تھیں۔

بینکنگ ماہرین کے مطابق بینکوں کی جانب سے حکومت کو قرض دینے کا رجحان بدستور جاری ہے۔ کیونکہ حکومتی سیکیورٹیز کو کم خطرہ اور بہتر منافع حاصل ہوتا ہے۔ حالیہ ہفتے ٹریژری بلز کی نیلامی کے دوران بینکوں نے تقریباً 2.5 ٹریلین روپے تک کی بولیاں لگائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث، ریونیو میں بہتری کے باوجود بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں