spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

حکومت نے پہلی ششماہی میں بینکوں سے 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا، رپورٹ

کراچی: حکومت نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں بینکوں سے 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران شیڈول بینکوں سے 1.192 ٹریلین روپے یعنی تقریباً 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا۔

یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ جب حکومت نے بینکوں کو 1.255 ٹریلین روپے کا خالص قرضہ واپس کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان حکومت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 2.5 ٹریلین روپے کا منافع وفاقی حکومت کو منتقل کیا۔ اس کے باوجود حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے بھاری قرض لینا پڑا۔

اعداد و شمار کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس عرصے میں 6.159 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کیا۔ جو مقررہ ہدف 6.490 ٹریلین روپے سے تقریباً 331 ارب روپے کم ہے۔ تاہم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ٹیکس ریونیو میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جب وصولیاں 5.618 ٹریلین روپے تھیں۔

بینکنگ ماہرین کے مطابق بینکوں کی جانب سے حکومت کو قرض دینے کا رجحان بدستور جاری ہے۔ کیونکہ حکومتی سیکیورٹیز کو کم خطرہ اور بہتر منافع حاصل ہوتا ہے۔ حالیہ ہفتے ٹریژری بلز کی نیلامی کے دوران بینکوں نے تقریباً 2.5 ٹریلین روپے تک کی بولیاں لگائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث، ریونیو میں بہتری کے باوجود بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں