گلگت۔
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات 24 جنوری کو کرانے کی سفارشات منظوری کے لیے صدرِ پاکستان کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ *سنو گلگت بلتستان * سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48 کے تحت اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر 60 دنوں کے اندر الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، اور اسی آرٹیکل کے تحت پولنگ ڈے کے تعین کے لیے سفارشات صدرِ پاکستان کو بھجوائی گئی ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق پولنگ ڈے کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن علاقے کے داخلی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ میں ردوبدل کر سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مشاورت کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی جائے گی اور انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی رائے لے کر اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ منصفانہ اور شفاف الیکشن کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ دس اضلاع کے لیے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کے لیے ججوں اور افسروں کی فہرستیں عدلیہ اور انتظامیہ سے موصول ہو چکی ہیں، جنہیں شیڈول کے اجرا کے بعد تعینات کر دیا جائے گا۔
گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں برف باری کے باعث سڑکیں بند ہونے سے شیڈول متاثر ہونے کے سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ “میں قانون کا پابند ہوں، موسم کا نہیں۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ انتخابات — جو نومبر میں ہوئے تھے — میں استور میں بیلٹ پیپرز گدھوں پر پہنچائے گئے تھے، لہٰذا اب بھی انتظامات ممکن ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنرل الیکشن کے ساتھ بلدیاتی انتخابات بھی ہوں گے اور اس سلسلے میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں گزشتہ 23 سال سے بلدیاتی انتخابات منعقد نہیں ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پہلے صرف تین بلدیاتی اداروں کے لیے انتخابات ہوتے تھے، جبکہ اس بار میونسپل کارپوریشن اور ٹاؤن کمیٹیوں کے لیے بھی الیکشن ہوں گے۔


