اسلام آباد: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ اختلافات ایران کے لیے باعث تشویش ہیں اور ان اختلافات کے حل کے لیے ایران ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے اور جب بھی پاکستان کہے گا، وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مثبت کردار ادا کرنے کے لیے موجود ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران علی لاریجانی نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں پاک ایران اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور ایران ایک مخصوص اور جامع اسٹریٹجک فریم ورک طے کریں جو دونوں ممالک کی ضروریات اور حالات کے مطابق ہو۔
علی لاریجانی نے پاکستان اور ایران کے درمیان انٹیلی جینس شیئرنگ کو باہمی تعاون کا ایک اہم حصہ قرار دیا اور کہا کہ اگر پاکستان چاہے تو ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
اس کے علاوہ، ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے حوالے سے علی لاریجانی نے کہا کہ ایران نے اپنے حصے کی تمام ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور اگر رکاوٹیں نہ ہوتیں تو آج پاکستانی گھرانوں میں ایرانی گیس استعمال ہو رہی ہوتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے حوالے سے جلد کوئی حل نکل آئے گا۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ پاکستان نے امریکا سے اچھے تعلقات کے باوجود ہمیشہ ایران کی حمایت کی، جسے ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا غزہ میں کسی بین الاقوامی فورس میں شمولیت کا فیصلہ بالکل پاکستان کا حق ہے، تاہم انہوں نے بین الاقوامی امن فورس کو دیرپا حل نہ ہونے اور مزید مشکلات پیدا کرنے کے طور پر دیکھا۔
علی لاریجانی نے دہشت گردی کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ دہشت گرد گروہ دونوں ممالک کے لیے مشترکہ چیلنج ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فیصلہ کن کارروائیاں ضروری ہیں۔ انہوں نے داعش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے داعش جیسے دہشت گرد گروہ کو بنایا تھا اور مختلف دہشت گرد تنظیموں کو مختلف انٹیلی جینس ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔


