خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 11 خوارج ہلاک ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان ، بنوں اور خضدار میں دہشتگردوں کیخلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 دہشتگرد مارے گئے، ہلاک ہونے والے دہشتگردوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے بارودی مواد سے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو تباہ کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کے نتیجے میں 5 خارجی دہشتگرد ہلاک ہو گئے، فورسزنے دہشتگردوں کی نقل وحرکت کا بروقت سراغ لگا کر موثر کارروائی کی۔
اس کے علاوہ بلوچستان کے ضلع خضدار ساسول میں فتنہ الہندوستان کیخلاف کارروائی کے دوران 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ سکیورٹی فورسزنے دہشتگردوں کو کوارڈ کاپٹر کی مدد سے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں یقینی بنایا گیا کہ عوام کے جان و مال اور مقامی آبادی کو نقصان نہ پہنچے، دہشتگردی کے مکمل خاتمہ تک عزم استحکام ویژن کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے پانچ روز قبل خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے کامیاب آپریشنز میں 49 دہشتگرد مارے گئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کا مقصد دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی اور ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔
کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈی ڈیٹونیٹنگ ریموٹس، اسلحہ، گولہ بارود اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئی تھیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کارروائیوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ علاقے میں موجود دیگر بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کا سراغ لگا کر ان کا خاتمہ کیا جا سکے۔
دریں اثناء وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں نے بروقت کارروائیاں کرکے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملایا۔۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوت ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔


