یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا نے فیفا کے ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ فروخت کرنے کے مجوزہ منصوبے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ آگے بڑھایا گیا تو یورپی ٹیمیں ورلڈ کپ سمیت تمام فیفا مقابلوں کا بائیکاٹ کریں گی۔
یوئیفا کی رکن فیڈریشنز کے آن لائن اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جب تک فیفا اس منصوبے کو مکمل طور پر واپس نہیں لیتا اور آئندہ کبھی بھی اپنے مقابلوں یا گورننس میں نجی ملکیت شامل نہ کرنے کی ضمانت نہیں دیتا، تب تک یوئیفا کی قومی ٹیمیں کسی بھی فیفا ایونٹ میں شرکت نہیں کریں گی۔
یوئیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ کوئی سرمایہ کاری کی مصنوعات نہیں بلکہ فٹبال کا تاریخی ورثہ ہے جسے دنیا بھر کے کھلاڑیوں، قومی ٹیموں اور شائقین نے نسلوں تک پروان چڑھایا ہے، اس لیے اس کا کوئی حصہ نجی سرمایہ کاروں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
یہ ردعمل فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کی اس تجویز کے بعد سامنے آیا جس میں فیفا کے تجارتی شعبے کو تقریباً 20 ارب ڈالر کے منصوبے کے تحت الگ کرتے ہوئے اس کا 20 فیصد حصہ نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت ہر رکن ملک کو 2 کروڑ ڈالر دینے کی پیشکش بھی کی گئی ہے جس پر ستمبر کے وسط تک فیصلہ کرنا ہوگا۔
ادھر ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ نے بھی فیفا کی جانب سے مشاورت کے بغیر اس منصوبے کو آگے بڑھانے کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی فٹبال کے موجودہ ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے۔
دوسری جانب جیانی انفانٹینو کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کی تجویز لازمی نہیں بلکہ صرف ایک آپشن ہے، تاہم اس منصوبے نے دنیا بھر کی فٹبال تنظیموں میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔


