spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
7 July, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

غزہ کی عبوری انتظامیہ کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے، حماس کی ثالث ممالک سے اپیل

حماس نے ثالث ممالک اور معاہدے کے ضامن فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ غزہ کی عبوری فلسطینی انتظامیہ کو علاقے میں داخل ہونے اور سول انتظام سنبھالنے کی اجازت دی جا سکے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ حماس کی جانب سے غزہ کی گورنمنٹ ایمرجنسی کمیٹی تحلیل کرنے اور انتظامی اختیارات غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے کے فیصلے کو فلسطینی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی حلقوں نے مثبت قدم قرار دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے کے بعد فلسطینی دھڑوں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام جماعتوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوئیں، جہاں اس فیصلے کو غزہ کے انتظامی امور میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

حازم قاسم نے کہا کہ اب ذمہ داری ثالث ممالک اور معاہدے کے ضامن فریقوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ قومی انتظامی کمیٹی کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور وہ روزمرہ سول امور سنبھال سکے۔

رپورٹس کے مطابق غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی ایک غیر سیاسی ادارہ ہے، جس میں فلسطینی عوامی شخصیات شامل ہیں۔ یہ کمیٹی غزہ کے شہری اور انتظامی معاملات چلانے کی ذمہ دار ہے اور جنوری کے وسط سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے اپنے امور انجام دے رہی ہے، تاہم اب تک اسے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں مل سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اس کمیٹی کو غزہ میں کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو اس سے شہری انتظام، انسانی امداد کی تقسیم اور بنیادی سرکاری خدمات کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے حل کی جانب بھی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں