spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ذاتی زمین اور جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا، وزیر آئی ٹی کی ٹیلی کام بل پر وضاحت

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ نئے ٹیلی کام بل کے تحت کسی بھی شہری کی ذاتی زمین یا جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں کیا جائے گا، بل کا بنیادی مقصد ملک بھر میں تیز رفتار اور معیاری انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ ٹیلی کام بل پر عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری تھا، کیونکہ پرانا قانون موجودہ دور کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ضروریات سے ہم آہنگ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ٹیلی کام بل تقریباً چھ ماہ تک قومی اسمبلی میں زیر غور رہا، جبکہ سینیٹ میں بھی اسے مزید مشاورت کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا، جو جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی نے بل کو 6 ترامیم کے ساتھ منظور کیا۔

شزہ فاطمہ نے واضح کیا کہ بل کا مقصد ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مسائل کا حل نکالنا ہے جو ٹیلی کام کمپنیوں سے معاہدے کرنے کے باوجود بعد میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شہری اپنی نجی پراپرٹی پر ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر نصب کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتا تو یہ اس کا قانونی حق ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی کام بل کے حوالے سے مجھ پر اور سیکرٹری آئی ٹی کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، جس پر وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ان الزامات کی تحقیقات کروائی جائے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت اور متعلقہ حکام اپنے خلاف لگائے گئے مالی الزامات پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ نجی جائیدادوں سے متعلق قواعد و ضوابط بھی واضح کیے جائیں گے تاکہ کسی شہری کے حقوق متاثر نہ ہوں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں