spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

اسرائیل نواز پالیسی پر نریندر مودی کو شدید تنقید، اپوزیشن کا سخت ردعمل

ایران پر حملوں اور اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر بھارتی وزیر اعظم کو اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ اسرائیل نواز مؤقف اور دورۂ اسرائیل پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بھارت کی نام نہاد غیر جانبداری کا تاثر مجروح ہوا ہے۔

عالمی جریدے بلومبرگ کے مطابق بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ مودی کے حالیہ دورے نے ایران پر فضائی حملوں کی تائید کا تاثر دیا، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

اپوزیشن جماعت کانگریس کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ ایران پر حملوں پر مودی کا ردعمل بھارت کی روایتی سفارتی اقدار اور قومی مفادات سے انحراف کے مترادف ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں بڑھتے بحران سے بھارتی معیشت کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافے اور تجارتی خسارے کے تناظر میں۔

رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلم اکثریتی خطے میں سکیورٹی پالیسیوں پر پہلے ہی عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، اور حالیہ علاقائی کشیدگی نے ان مباحث کو مزید تقویت دی ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک فریق کی کھلی حمایت خطے میں سفارتی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کو اپنی طویل مدتی معاشی اور تزویراتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط سفارتکاری اپنانا ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ علاقائی بحران میں کسی بھی بڑے ملک کا واضح جھکاؤ خطے کے طاقت کے توازن اور عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں