spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

اٹلی کے بعد مزید یورپی ممالک میں پاکستانیوں کیلیے مواقع؛ نوکریوں کا اعلان

اٹلی کے بعد مزید یورپی ممالک نے پاکستانیوں کے لیے دروازے کھول دیے اور ملازمتوں  کے مواقع فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے پر 6 ممالک کے وزرائے داخلہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوئے۔  کانفرنس میں یورپی ممالک نے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے اور قانونی طریقہ کار کے تحت افرادی قوت کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی۔

 

اجلاس  میں پولینڈ، ایسٹونیا، لیٹویا، فن لینڈ اور لتھوانیا کے وزرائے داخلہ شریک تھے۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ان ممالک نے پاکستان کے ساتھ سرکاری سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قریبی رابطے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

شرکا نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارروائیوں اور غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت پیش رفت قرار دیا۔

 

اجلاس میں طے پایا کہ چھ ممالک اپنی وزارت داخلہ میں فوکل پرسن مقرر کریں گے تاکہ معلومات کے تبادلے اور رابطہ کاری کو مؤثر بنایا جا سکے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط نظام وضع کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ کے طور پر کھڑا ہے، خصوصاً افغانستان کے تناظر میں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں یورپ کی جانب غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ باہمی تعاون اور مربوط اقدامات کے ذریعے یورپی ممالک اور پاکستان اس اہم مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں