spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

کلاڈ چیٹ نظام سے ڈیٹا چوری کا الزام؛ ڈیپ سیک سمیت تین کمپنیوں کے نام سامنے آگئے

مصنوعی ذہانت کی امریکی کمپنی انتھروپک نے دعویٰ کیا ہے کہ تین غیر ملکی کمپنیوں نے اس کے چیٹ نظام ’’کلاڈ‘‘ سے بڑے پیمانے پر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق ڈیپ سیک، مون شاٹ اے آئی اور منی میکس نے مبینہ طور پر ایسے طریقے اپنائے جن کا مقصد کلاڈ کی صلاحیتوں کو اپنے نظام بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا تھا۔

کمپنی کے بیان میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ’’نچوڑ‘‘ کہلانے والا طریقہ عام طور پر اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کمزور نظام زیادہ جدید نظام کے جوابات سے سیکھتے ہیں۔

تاہم انتھروپک کے مطابق اس طریقے کو غلط انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ حفاظتی اقدامات اور دانشورانہ ملکیت کے حقوق کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انتھروپک کا کہنا ہے کہ ان تینوں کمپنیوں نے تقریباً چوبیس ہزار جعلی کھاتوں کے ذریعے کلاڈ کے ساتھ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد مرتبہ رابطہ کیا۔

کمپنی نے بتایا کہ یہ سرگرمیاں اس مقصد کے تحت کی گئیں کہ جدید مصنوعی ذہانت نظام تیار کرنے کے لیے کلاڈ کو بطور شارٹ کٹ استعمال کیا جائے۔

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ اس نے ان کارروائیوں کو متعلقہ اداروں سے جوڑنے کے لیے انٹرنیٹ ایڈریس، فنی معلومات اور دیگر تکنیکی شواہد کا جائزہ لیا۔ انتھروپک کے مطابق دیگر مصنوعی ذہانت اداروں نے بھی اسی نوعیت کے مشاہدات کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اوپن اے آئی نے بھی اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے تھے اور بعض کھاتوں کو مبینہ غلط استعمال کے شبہے میں بند کردیا تھا۔

انتھروپک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا تاکہ اس طرح کی مبینہ سرگرمیوں کا سراغ لگانا اور انہیں روکنا آسان ہوسکے۔

تاہم دوسری جانب کمپنی کو قانونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے کیونکہ موسیقی شائع کرنے والی چند کمپنیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کلاڈ کی تربیت کے لیے گانوں کی غیر مجاز نقول استعمال کی گئیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں