spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

امریکا کے پاس ایران پر لگاتار 5 دن تک خوفناک حملے کرنے کا ذخیرہ موجود ہے؛ اسرائیل

امریکا نے ایران پر مبینہ حملے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں بحرالکاہل پر امریکی بحری بیڑہ اور پرتگال میں امریکی طیارے پوزیشنز سنبھالے ہوئے ہیں۔ 

برطانیہ کے معروف اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اہم باتیں بتائیں۔

انھوں نے کہا کہ کو بتایا ہے کہ خطے میں امریکا بڑی فوجی طاقت جمع کررہا ہے اور اس کے پاس ایران پر لگاتار چار سے پانچ دن تک شدت تابڑ توڑ فضائی حملے کرنے کی استعداد موجود ہے۔

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق امریکا خطے میں پہلے ہی دو طیارہ بردار بحری جہازوں سمیت بھاری عسکری قوت تعینات کر چکا ہے جو بلارکاوٹ ایک ہفتے تک جنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قوت زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے تک شدت کی کارروائیاں جاری رکھ سکتی ہے البتہ طویل المدتی اور بھرپور جنگی مہم چلانے کی سکت محدود ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر محدود اور قلیل المدتی حملے کیے گئے تو اس سے ایرانی قیادت کمزور ہونے کے بجائے مزید حوصلہ پکڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

ادھر اس تناظر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو 24 فروری 2026 کو یونان کے جزیرہ کریٹ میں واقع سوڈا بے پر لنگر انداز دیکھا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے لیے اپنی فوجی موجودگی مضبوط رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتنی فوجی قوت کی موجودگی کو بھی غنیمت جانتے ہیں انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران سے وہ بآسانی جنگ جیت جائے گی جو جلد ہی ختم ہوجائے گی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں