spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
7 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

پاکستان کی افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں، 7 ٹھکانے کامیابی سے تباہ

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان میں کی گئی حالیہ دہشتگردی کی کارروائیوں کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے سات ٹھکانے کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ پکتیا ،پکتیکا، ننگر ہار او رخوست میں جیٹ طیاروں نے بمباری کی جس سے دوران دہشتگردوں کو بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں، دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں۔ دہشتگردوں نے حال ہی میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں کارروائیاں کیں۔

 

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں نے قبول کی ہے، پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشتگرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کی گئیں۔

وزارت کے مطابق پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگرد تنظیموں اور پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاہم افغان عبوری حکومت اس سلسلے میں مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر پاکستان۔افغانستان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج (FAK) سے وابستہ پاکستانی طالبان، ان کے اتحادیوں اور ISKP کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی اور مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا۔

پاکستان ایک بار پھر عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج اور دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

 

 

 

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں