spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
7 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

کیا روزہ رکھنے یا بھوکا رہنے سے وزن کم ہوتا ہے؟ نئی تحقیق میں حقیقت سامنے آگئی

حالیہ برسوں میں وقفے وقفے سے روزہ رکھنے والی غذا کو وزن کم کرنے کا مؤثر طریقہ قرار دیا جاتا رہا ہے تاہم نئی جامع تحقیق نے اس دعوے پر سوال اٹھا دیا ہے۔

مختلف طبی مطالعات کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کا طریقہ روایتی غذائی ہدایات کے مقابلے میں وزن گھٹانے میں کوئی نمایاں برتری ثابت نہیں کرسکا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایک سال کے دوران اس طرزِ غذا سے جسمانی وزن میں اتنی کمی دیکھنے میں نہیں آئی جو طبی اعتبار سے نمایاں سمجھی جائے۔

یہاں تک کہ پانچ فیصد وزن کم کرنے کے ہدف کے حوالے سے بھی یہ طریقہ عام خوراک جاری رکھنے کے برابر ہی پایا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار افراد میں یہ طریقہ روایتی کیلوریز کم کرنے والی غذاؤں کے مقابلے میں بہت کم فرق ڈالتا ہے۔

اس عالمی جائزے میں 2016 سے 2024 کے دوران شائع ہونے والی 22 کنٹرول شدہ تحقیقات شامل کی گئیں جن میں تقریباً دو ہزار افراد نے حصہ لیا جب کہ یہ مطالعات شمالی امریکا، آسٹریلیا، چین، یورپی ممالک اور برازیل میں کیے گئے۔

ان تحقیقات میں روزانہ محدود وقت میں کھانا کھانا، ہفتے میں ایک یا دو دن مکمل پرہیز، ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا اور اس کی تبدیل شدہ صورتیں شامل تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ متعدد مطالعات کے نتائج غیر واضح رہے اور بیشتر میں شرکا کی اطمینان، ذیابیطس کی کیفیت یا دیگر صحت کے مسائل پر تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ چند ہی تحقیقات میں ممکنہ منفی اثرات جیسے تھکن، سر درد یا متلی کا ذکر کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ ابتدائی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھوکے رہنے کی حالت میں جسم توانائی کے لیے چربی استعمال کرنے لگتا ہے مگر اس کے طویل مدتی فوائد کے بارے میں ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔

مزید یہ کہ مختلف افراد میں اس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں اور کچھ طبقات میں غذائی کمی کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس موضوع پر مزید جامع اور طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ واضح ہوسکے کہ آیا یہ طریقہ واقعی موٹاپے اور میٹابولزم سے متعلق مسائل میں مددگار ہے یا نہیں۔ فی الحال دستیاب شواہد اسے وزن گھٹانے کا مؤثر اور یقینی حل قرار دینے کے لیے ناکافی ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں