spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
7 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ، کھلاڑیوں کا بیان سامنے آگیا

پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرز سے جڑی مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایک کمپنی میں باقاعدہ سرمایہ کاری کی تھی اور اب تک ان کے ساتھ کسی دھوکے کا سامنا نہیں ہوا۔

کھلاڑیوں کے مطابق کمپنی مسلسل رابطے میں ہے اور مارچ تک تمام ادائیگیاں مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ اب تک صرف دو چیک واپس آئے ہیں۔

کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا، جس پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ فی الحال کسی قسم کا بڑا مسئلہ سامنے نہیں آیا اور اگر کوئی پیش رفت ہوئی تو فوری طور پر اطلاع دی جائے گی۔ بعد ازاں کھلاڑیوں نے چیئرمین پی سی بی کو یہ بھی بتایا کہ کمپنی نے مارچ تک واجبات کلیئر کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اس کا مالک دبئی میں مقیم ہے جو مسلسل ان سے رابطے میں ہے۔

دوسری جانب اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ مبینہ فراڈ سے متعلق کرکٹرز نے کسی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی اور نہ ہی اس معاملے کو حل کروانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رجوع کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق بعض کھلاڑیوں نے ایک سابق کپتان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک کاروباری شخصیت کے ساتھ سرمایہ کاری کی، جبکہ موجودہ کرکٹرز میں بھی سابق اور موجودہ کپتانوں کے نام شامل بتائے گئے ہیں۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ کچھ کھلاڑیوں نے براہِ راست اس کاروباری شخص کے ساتھ رقم لگائی اور غیر معمولی منافع کے حصول کی امید میں کروڑوں روپے مبینہ طور پر فراہم کیے گئے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں