spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
2 May, 2026
معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں مفکرِ پاکستان کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مزارِ اقبال پر طلباء و طالبات نے حاضری دی اور پھولوں کی چادھڑ چڑھا کر عقیدت و محبت کا اظہار کیا جبکہ راحت فتح علی خان نے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ سمیت کلامِ اقبال پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ Discover more Music Industry News Comedy Show Tickets Weather Alert Service گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے کلامِ اقبال پیش کر کے محفل کو گرما دیا میمونہ ساجد نے’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘پیش کر کے داد سمیٹی۔ تقریب میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم جس میں وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر، پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، پرنسپل کنیرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ارم، پرو ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ، ڈین پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر بسیرا امبرین، ڈین لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ریحانہ، ڈین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر شہزاد حسین اور وائس چانسلر سپیریئر یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نظام ، پروفیسر ڈاکٹر ندیم جعفر شامل ہیں نے خصوصی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی اور دو قومی نظریے کو اجاگر کرتے ہوئے معرکۂ حق کی کامیابی کو اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔ شرکاء نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تقریب میں قومی یکجہتی، نظریۂ پاکستان اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا اور مقررین نے فکرِ اقبال کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینے کے حیرت انگیز اور خطرناک نقصانات

مونٹریئل (کینیڈا) – کونکورڈیا یونیورسٹی کی نئی تحقیق اور بین الاقوامی مطالعات کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ پلاسٹک کی بند بوتل سے پانی پینے والے افراد سالانہ کئی گنا مائیکروپلاسٹک ذرات اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔

تحقیق میں 140 سے زائد مطالعات کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق بوتل بند پانی میں ہر لیٹر میں 2 سے 6,626 تک مائیکروپلاسٹک ذرات موجود ہو سکتے ہیں، جبکہ نینو پلاسٹک کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی روزانہ کی پانی کی مقدار صرف سنگل یوز بوتل سے حاصل کرے تو وہ سالانہ تقریباً 90,000 اضافی مائیکروپلاسٹک ذرات اپنے جسم میں جذب کر لیتا ہے، جبکہ صرف نل کے پانی پینے والے افراد کو سالانہ تقریباً 4,000 ذرات جذب ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بوتل کے گلے اور ڈھکن روشنی، حرارت اور دیگر عوامل کے اثر سے مائیکروپلاسٹک خارج کرنے کے بنیادی ذرائع ہیں۔

عالمی سطح پر کیے گئے مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایک عام انسان سالانہ تقریباً 39,000 سے 52,000 مائیکروپلاسٹک ذرات خوراک اور پانی کے ذریعے جذب کرتا ہے، لیکن جو لوگ روزانہ پلاسٹک بوتل سے پانی پیتے ہیں، ان میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 90,000 ذرات تک پہنچ جاتی ہے۔ مائیکروپلاسٹک ذرات کا سائز ایک نانومیٹر سے پانچ ملی میٹر تک ہو سکتا ہے اور یہ بوتل کے اندر موجود پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ذرات مدافعتی نظام، ہارمونز اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے صحت پر فوری اثرات کا جائزہ لینے اور معیاری ٹیسٹنگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صارفین کو محفوظ اور صاف پانی فراہم کیا جا سکے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں