spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

قومی سول اعزازات اور مراعات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد:

قومی سول اعزازات اور ان سے منسلک مراعات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران کابینہ سیکرٹریٹ کی جانب سے ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ 3 سال کے دوران غیر معمولی کارکردگی پر ساڑھے 1200 شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا گیا جب کہ مجموعی طور پر 21 قومی اعزازات میں سے 16 سول اعزازات کو مراعات کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔

ایوان کو بتایا گیا کہ 5 اعزازات حاصل کرنے والی شخصیات مراعات کے ساتھ ساتھ انعام کی بھی مستحق ہیں۔ کابینہ سیکرٹریٹ کے مطابق نشان شجاعت حاصل کرنے والی شخصیت کو زندگی میں 15 لاکھ روپے جب کہ بعد از وفات 18 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہلال شجاعت حاصل کرنے کی صورت میں زندہ ہونے پر 12 لاکھ 50 ہزار روپے اور بعد از وفات 16 لاکھ 25 ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں  ستارہ شجاعت حاصل کرنے والی شخصیت کو زندگی میں 11 لاکھ 25 ہزار روپے جب کہ بعد از وفات 13 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ تمغہ شجاعت حاصل کرنے پر زندگی میں 10 لاکھ 25 ہزار روپے اور بعد از وفات 11 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے والی شخصیت کو 12 لاکھ 50 ہزار روپے انعام کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ سول اعزازات حاصل کرنے والی شخصیات وی آئی پی لاونج اور گورنمنٹ گیسٹ ہاؤسز کے استعمال کی مستحق ہوتی ہیں جب کہ انہیں پستول، کلاشنکوف، 22بور اور  2شارٹ گن کے لائسنس سے استثنا بھی حاصل ہوتا ہے، تاہم تمغہ پاکستان، تمغہ شجاعت، تمغہ قائداعظم، تمغہ خدمت اور تمغہ امتیاز کے لیے کوئی مراعات نہیں دی جاتیں۔

ایوان کو پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق سول اعزازات دینے میں سندھ حکومت سر فہرست رہی، جہاں 3 سال کے دوران 149 سول اعزازات تقسیم کیے گئے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے 114، پنجاب حکومت نے 74 اور بلوچستان حکومت نے 37 شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا۔

مزید بتایا گیا کہ وزارت قومی ورثہ نے 132، وزارت اطلاعات نے 89، وزارت داخلہ نے 85 اور وزارت خارجہ نے 82 شخصیات کو سول اعزازات عطا کیے جب کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے 67 شخصیات کو سول ایوارڈز سے نوازا گیا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں