spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 May, 2026
معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں مفکرِ پاکستان کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مزارِ اقبال پر طلباء و طالبات نے حاضری دی اور پھولوں کی چادھڑ چڑھا کر عقیدت و محبت کا اظہار کیا جبکہ راحت فتح علی خان نے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ سمیت کلامِ اقبال پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ Discover more Music Industry News Comedy Show Tickets Weather Alert Service گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے کلامِ اقبال پیش کر کے محفل کو گرما دیا میمونہ ساجد نے’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘پیش کر کے داد سمیٹی۔ تقریب میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم جس میں وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر، پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، پرنسپل کنیرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ارم، پرو ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ، ڈین پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر بسیرا امبرین، ڈین لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ریحانہ، ڈین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر شہزاد حسین اور وائس چانسلر سپیریئر یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نظام ، پروفیسر ڈاکٹر ندیم جعفر شامل ہیں نے خصوصی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی اور دو قومی نظریے کو اجاگر کرتے ہوئے معرکۂ حق کی کامیابی کو اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔ شرکاء نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تقریب میں قومی یکجہتی، نظریۂ پاکستان اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا اور مقررین نے فکرِ اقبال کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

امریکی جنگی طیارے گرین لینڈ کیوں پہنچے؟ وجہ سامنے آگئی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حملے کی دھمکیوں اور گرین لینڈ پر امریکی جھنڈا لہرانے کے اے آئی سے بنی تصویر شیئر کرنے کے بعد اب امریکی فوجی طیاروں کی گھن گھرج گرین لینڈ کے اوپر سنی جا سکتی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوج کے جنگی طیاروں کی پرواز اب گرین لینڈ میں واقع امریکی فوجی اڈے کی جانب ہے۔

امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی جنگی طیاروں کی گرین لینڈ میں تعیناتی کا عمل شروع ہوگیا۔

دفاعی ادارے نوراڈ نے وضاحت کی ہے کہ امریکی فوجی طیاروں کی یہ تعیناتی پہلے سے طے شدہ دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور اس بارے میں گرین لینڈ کی حکومت کو پیشگی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

نوراڈ کا مزید کہنا ہے کہ اس عمل میں ڈنمارک حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور امریکی فورسز کو تمام ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں۔

دفاعی حکام کے مطابق یہ طیارے شمالی امریکا کے دفاع اور معمول کی نگرانی کی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گاہر اسٹورے کو بھیجے گئے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ جب تک امریکا کو گرین لینڈ پر مکمل اور حتمی کنٹرول حاصل نہیں ہوگا، عالمی سلامتی کو خطرات لاحق رہیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس پیغام کی تصدیق ناروے کے وزیرِاعظم کے دفتر نے بھی کی ہے۔

خیال رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل ڈنمارک پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کے حوالے سے روسی خطرات سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔

دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا ہے کہ ہماری سرزمین نہ تو فروخت کے لیے ہے اور نہ ہی اسے دوسرے ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

دونوں فریقوں نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے خودمختار نظام کی توثیق کی ہے۔

گرین لینڈ میں امریکی فوج کی موجودگی کی تاریخ

گرین لینڈ جغرافیائی طور پر دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی بادشاہت کے اندر ایک خودمختار علاقہ ہے۔

سنہ 1951 میں امریکا اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ دفاعی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکا نے گرین لینڈ کو ممکنہ بیرونی جارحیت سے بچانے کی ذمہ داری لی تھی۔

جس کے بعد 1958 میں امریکا اور کینیڈا نے سرد جنگ کے آغاز پر نوراڈ کے نام سے مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور شمالی امریکا کا فضائی دفاع ہے۔

گرین لینڈ میں واقع پٹوفک اسپیس بیس (سابقہ تھولے ایئر فورس بیس) امریکا کے اہم فوجی اور مواصلاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں میزائل وارننگ سسٹم بھی نصب ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں