spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

فلو کے بعد کئی ہفتوں تک کھانسی، کن حالات میں خطرناک؟

فلو یا شدید نزلہ زکام جیسے کی بیماریوں سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی کئی ہفتوں تک کھانسی برقرار رہنا عام طور پر تشویش کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی سب سے عام وجہ یہ ہے کہ سانس کی نالی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی ہوتی اور حساس رہتی ہے، جس سے کھانسی دیر تک برقرار رہ سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق فلو کے بعد اکثر افراد کو ایسے نزلے کا سامنا ہوتا ہے، جس میں ناک یا سائنَس سے نکلنے والا بلغم جو حلق کے پچھلے حصے میں بہتا رہتا ہے۔ اس سے گلے میں جلن پیدا ہوتی ہے اور کھانسی کا ردعمل جنم لیتا ہے۔

مزید یہ کہ دمہ، الرجی یا معدے کی تیزابیت جیسی حالتیں بھی سانس کی نالی کو حساس بناتی ہیں اور کھانسی کو طویل کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی اور آلودہ ماحول میں رہنا بھی کھانسی کی شدت اور مدت کو بڑھا دیتا ہے، کیونکہ یہ عوامل سانس کی نالی میں سوزش پیدا کرتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر کھانسی کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، خون آنا، غیر معمولی وزن میں کمی یا رات کو شدید پسینہ جیسی علامات ظاہر ہوں، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

خاص طور پر، اگر کھانسی آٹھ ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو اسے معمولی مسئلہ نہ سمجھیں، کیونکہ بعض اوقات یہ کسی سنگین بیماری، جیسے پھیپھڑوں کی انفیکشن یا دیگر ریڑھائی امراض کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کھانسی کے دوران اپنے قریب ضعیف المناعی افراد، بچوں اور بوڑھوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جیسے ہاتھ کی صفائی اور مناسب وینٹیلیشن، تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔ ساتھ ہی، کھانسی کے دیرپا اثرات کو کم کرنے کے لیے فلٹر شدہ پانی، صحت مند غذا اور مناسب آرام کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں