spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
2 May, 2026
معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں مفکرِ پاکستان کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مزارِ اقبال پر طلباء و طالبات نے حاضری دی اور پھولوں کی چادھڑ چڑھا کر عقیدت و محبت کا اظہار کیا جبکہ راحت فتح علی خان نے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ سمیت کلامِ اقبال پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ Discover more Music Industry News Comedy Show Tickets Weather Alert Service گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے کلامِ اقبال پیش کر کے محفل کو گرما دیا میمونہ ساجد نے’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘پیش کر کے داد سمیٹی۔ تقریب میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم جس میں وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر، پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، پرنسپل کنیرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ارم، پرو ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ، ڈین پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر بسیرا امبرین، ڈین لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ریحانہ، ڈین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر شہزاد حسین اور وائس چانسلر سپیریئر یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نظام ، پروفیسر ڈاکٹر ندیم جعفر شامل ہیں نے خصوصی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی اور دو قومی نظریے کو اجاگر کرتے ہوئے معرکۂ حق کی کامیابی کو اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔ شرکاء نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تقریب میں قومی یکجہتی، نظریۂ پاکستان اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا اور مقررین نے فکرِ اقبال کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

سائنس کی بڑی کامیابی، انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

نیویارک: سائنسدان تاریخ میں پہلی بار یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی سرزمین میں برف کی موٹی تہوں کے نیچے کون سے حیران کن راز پوشیدہ ہیں۔ ماہرین نے برف سے ڈھکے اس براعظم سے متعلق ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی کئی کلومیٹر موٹی برف اب تک سائنس دانوں کے لیے اس کی اصل زمینی ساخت کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔ تاہم جدید نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیک کے استعمال سے یہ مشکل بڑی حد تک حل کر لی گئی ہے۔

تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید ریڈار سسٹمز اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے سرکنے کی طبیعیات کو استعمال کیا گیا ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری، تنگ گھاٹیاں دفن ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انکشاف ہونے والی یہ جغرافیائی ساخت بڑے پہاڑی سلسلوں، پیچیدہ زمینی نشیب و فراز اور وسیع وادیوں پر مشتمل ہے۔ جو اس خطے سے متعلق اب تک کی سب سے حیران کن اور جامع دریافت سمجھی جا رہی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔ بلکہ مستقبل میں برفانی چادروں کے پگھلاؤ اور عالمی سطح سمندر میں ممکنہ اضافے کی پیشگوئی کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں