گلگت: قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے بائیوڈائیورسٹی اینڈ کنزرویشن سینٹر میں 1000 میڈیسنل پلانٹ جینوم پراجیکٹس اور ان کے استعمال کے عنوان پر شاندار سیمینار کاانعقاد کیاگیا۔شعبہ تعلقات عامہ کے آئی یو کے مطابق سیمینار میں عالمی شہرت یافتہ ماہرِ جینومکس پروفیسر ڈاکٹر چانگ لیوڈائریکٹر سینٹر فار بائیو انفارمیٹکس، IMPLAD بیجنگ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ان کے ہمراہ سیمینار میں کیمسٹری، پلانٹ سائنسز، اینیمل سائنسز اور انوائرمنٹل سائنسز کے اساتذہ، محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر چانگ لیو نے بتایا کہ کس طرح بڑے پیمانے پر جینوم سیکوئنسنگ سے نئی ادویات کی دریافت، ثانوی میٹابولائیٹس کی تحقیق اور نباتاتی تنوع کے تحفظ میں انقلاب آ رہا ہے۔انہوں نے IMPLAD کے جدید لیبارٹریوں اور عالمی منصوبوں کا تعارف کرایا اور پاکستانی طلبہ و محققین کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپس، پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاک پروگرامز کے مواقع کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے جرنل میں مقالات جمع کرانے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا۔سیمینار کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) وائس چانسلر کے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ، اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے پروفیسر چانگ لیو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہایہ شراکت داری اور آج کا سیمینار پاکستان۔چین سائنسی تعاون کا نیا باب ہے جو گلگت بلتستان کی جڑی بوٹیوں کے دواسازی کے عظیم امکانات کو دنیا کے سامنے لائے گا۔اس معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ فیلڈ ورک، جینومک ڈیٹا کا اشتراک، مشترکہ اشاعتیں اور طلبہ اساتذہ کا تبادلہ کریں گے جس سے گلگت بلتستان جلد ہی میڈیسنل پلانٹ جینومکس کا عالمی مرکز بن جائے گا۔واضح رہے کہ اس سیمینار کا انعقاد شعبہ کیمسٹری کے چیئرپرسن ڈاکٹر افتخار علی نے کیاتھا۔مقررین نے بہترین سیمینار کے انعقاد پر چیئرپرسن شعبہ کیمسٹری کی تعریف کی۔یاد رہے کہ یہ سیمینار گزشتہ روزجامعہ قراقرم اور بیجنگ کے معروف ادارے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسنل پلانٹ ڈیولپمنٹ (IMPLAD)، چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے درمیان ہونے والے باقاعدہ دستاویزِ تفہیم (DOU) پر دستخط کے تحت انعقاد کیاگیا تھا۔ اس اہم معاہدے کا مقصد گلگت بلتستان کے نایاب اور قیمتی جڑی بوٹیوں کے خزانے پر مشترکہ سائنسی تحقیق کرنا بھی شامل ہے۔


