spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
1 March, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

چاند اور مریخ مشنوں کےلیے خلائی زرعی فارمز کا روڈ میپ جاری

سائنس دانوں نے چاند اور مریخ مشنوں کے لیے خلائی زرعی فارمز کا روڈ میپ جاری کر دیا۔

خبرایجنسی کے مطابق عالمی سائنس دانوں نے چاند اور مریخ پر طویل مدتی انسانی قیام کو برقرار رکھنے کے لیے پودوں پر مبنی زرعی نظام تیار کرنے کی ایک جامع روڈ میپ پیش کی ہے، جو زمین پر بھی پائیدار غذائی پیداوار میں انقلاب لا سکتی ہے۔

میلبورن یونیورسٹی کے مطابق اس منصوبے میں مختلف ممالک اور خلائی ایجنسیوں کے 40 سے زائد سائنس دان شامل ہیں، جنہوں نے طویل المدتی خلائی مہمات کے لیے خود کفیل، پودوں پر مبنی لائف سپورٹ سسٹم تیار کرنے کے لیے درکار سائنسی پیش رفت کی نشاندہی کی ہے۔ یہ تحقیق نیو فائیٹولوجسٹ جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ بایو ری جنریٹو سسٹم تازہ غذا اگا سکتے ہیں، پانی اور ہوا کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا سکتے ہیں اور خلا بازوں کی صحت اور فلاح و بہبود کا سہارا بن سکتے ہیں۔ مستقبل کی خلائی مہمات کی رہنمائی کے لیے محققین نے ایک نیا فریم ورک بھی تجویز کیا ہے۔ بایوری جنریٹو لائف سپورٹ سسٹم ریڈی نیس لیول ، جو یہ جانچنے میں مدد دے گا کہ کس حد تک پودے خلائی مکانات میں غذائی اجزا کی ری سائیکلنگ، پانی کی صفائی، آکسیجن کی پیداوار اور غذائیت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

میڈیا ریلیز کے مطابق روڈ میپ میں فصلوں کی سائنس میں ہونے والی جدید ترین پیش رفت جیسے سنتھیٹک بایولوجی، پریسیژن سینسنگ اور کنٹرولڈ انوائرنمنٹ ایگریکلچر کو نمایاں کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ناسا کے 2027 کے آرٹیمس تھری مشن سے قبل ترجیحات طے کرنے میں مدد دے گی، جس کے تحت انسان دوبارہ چاند کی سطح پر جائیں گے اور لونر ایفیکٹس آن ایگریکلچرل فلورا تجربہ کیا جائے گا جو پہلی بار چاند پر پودے اگا کر انہیں واپس لانے کی کوشش ہوگی۔

مطالعے کے شریک مصنف اور میلبورن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سگفریڈو فوینٹس کے مطابق چاند کے لیے زرعی نظام ڈیزائن کرنا زمین پر زراعت کو بہتر بنانے کے لیے اہم بصیرتیں فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی ماہرین کے ساتھ مل کر انہوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ پودوں کو کس طرح انجینئر، موافق اور مانیٹر کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ چاند اور مریخ کے ماحول میں بھی نشوونما پا سکیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں