یہ دل چسپ تحریر اس فلم سے متعلق ہے جس میں پاکستانی اداکارہ زیبا بختیار نے بولی وڈ کے مشہور ہیرو رشی کپور کے ساتھ بطور ہیروئن کام کیا تھا۔ فلم کا نام تھا، حنا اور یہ 1991ء میں ریلیز کی گئی تھی۔
شفیق احمد اپنے زمانے کے مشہور فلمی رسالہ شمع میں لکھتے رہے تھے۔ شمع ایک ایسا فلمی پرچہ تھا جس کی شہرت سرحد پار بھی ہر اس جگہ تھی جہاں اردو جاننے والے اور فلم بین موجود تھے۔ پاکستان میں بھی شمع پڑھا جاتا تھا اور اس کے مدیر یونس دہلوی کی بولی وڈ کے سپراسٹارز سمیت ہر بڑے چھوٹے فن کار سے گہری دوستی اور خاطر داری کا تعلق تھا۔ شفیق احمد ایسے قلم کار تھے جنھوں نے بھارتی فلم نگری میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام بھی کیا اور فلمی جریدوں کے لیے بھی لکھتے رہے۔ یہ تحریر ان کی کتاب فلم نگری کا اندھیرا اجالا میں شامل ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
راج کپور نے حنا کی کہانی خواجہ احمد عباس سے اس وقت خریدی تھی جب وہ فلم بابی بنا چکے تھے۔ لیکن کچھ مجبوریوں کی وجہ سے اس کہانی پر فلم شروع نہیں ہو رہی تھی اور راج کپور کسی دوسری کہانی پر فلم شروع کر دیتے تھے۔ راج کپور اس فلم کی کچھ شوٹنگ پاکستان میں کرنا چاہتے تھے اور دونوں ملکوں کے تعلقات ایسے نہیں تھے کہ وہاں جا کر شوٹنگ کی جا سکے۔ اس طرح حنا کے شروع ہونے میں دیر ہوتی چلی گئی اور پھر فلم کے کہانی کار خواجہ احمد عباس اس دنیا سے چل بسے۔
جب راج کپور کے لیے حنا بنانے کا وقت آیا تو انہیں خواجہ احمد عباس کی کمی محسوس ہوئی، جو پہلے ان کے لیے آوارہ، چار سو بیسں، میرا نام جوکر اور بابی جیسی فلمیں لکھ چکے تھے۔ جاگتے رہو کے ڈائیلاگ تحریر کر چکے تھے۔ مجبور ہو کر راج کپور نے رائٹر جیوتی سروپ سے حنا کا اسکرین پلے لکھوایا، جو پہلے ان کے ساتھ رام تیری گنگا میلی میں بھی کام کر چکے تھے۔ جیوتی سروپ نے راج کپور کی مرضی کے مطابق اسکرین پلے لکھا۔ راج کپور کی طرف سے ان کو معاوضہ بھی ملا۔ یہ فلم کی بدقسمتی رہی کہ فلم شروع ہونے سے پہلے ہی راج کپور اس دنیا سے چل بسے۔ فلم والے یہ سوچ بیٹھے تھے کہ اب حنا کبھی شروع نہیں ہو گی۔
راج کپور کے تینوں بیٹوں، رندھیر کپور، رشی کپور اور راجیو کپور نے اس بات کو ایک چیلنج سمجھا اور اپنے والد راج کپور کے خواب کو پورا کرنے کے لیے فلم حنا بنانے کا عہد کیا۔ فلم بابی میں جینیندر جین نے ڈائیلاگ لکھے تھے۔ اس وقت سے جنیندر جین آر کے فلمز کے مستقل ڈائیلاگ رائٹر بن گئے تھے۔ رندھیر کپور نے جیوتی سروپ کے لکھے ہوئے اسکرین پلے پر دوبارہ کام کروایا ۔ آدھی فلم بننے کے بعد فلم کی پبلسٹی میں نام اس طرح دیے گئے۔ کہانی: خواجہ احمد عباس، اسکرین پلے و ڈائیلاگ: جینیدر جین
جیوتی سروپ نے جب یہ پبلسٹی دیکھی تو وہ حیران رہ گئے۔ انھوں نے رندھیر کپور سے بات کرنے کے لیے کئی بار فون کیا، مگر انہیں ہر بار یہ ہی بتایا گیا کہ رندھیر کپور موجود نہیں ہیں۔ جیوتی سروپ نے محسوس کیا کہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلے گا۔ اس لیے انھوں نے رندھیر کپور کے خلاف فلم رائٹر ایسوسی ایشن میں کیس دائر کیا۔ رندھیر کپور کو میٹنگ میں حاضر ہونے کے لیے خط لکھا گیا تو وہ خود نہیں آئے۔ ان کی بجائے آر کے فلمز کے جنرل منیجر اشوک کول حاضر ہوئے اور انھوں نے یہ دلیل دی کہ جیوتی سروپ نے راج کپور جی کے لیے اسکرین پلے لکھا تھا۔ وہ رندھیر کپور نے استعمال تھا نہیں کیا۔ بلکہ جینیندر جین سے نیا اسکرین پہلے لکھوایا تھا، اس لیے جیوتی سروپ کا نام پبلسٹی میں نہیں دیا گیا۔ ایسی صورت میں وہ بقایا معاوضے کے حق دار بھی نہیں ہیں۔
ان دنوں جلیس شیروانی فلم رائٹر ایسوسی ایشن کے سکریٹری تھے۔ جلیس شیروانی نے اشوک کول کے سامنے یہ دلیل رکھی کہ اگر راج کپور جی زندہ ہوتے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ اسی طرح فلم بناتے جس طرح انھوں نے اپنی مرضی کے مطابق جیوتی سروپ سے اسکرین پلے لکھوایا تھا۔ رام تیری گنگا میلی کے ٹائٹلز میں بھی جیوتی سروپ کا نام تھا۔ جب راج کپور کے زندہ رہتے ہوئے اسکرین پلے رائٹر کا نام رہ سکتا ہے تو ان کے مرنے کے بعد کیوں نہیں رہ سکتا۔ رندھیر کپور کو اپنے والد کے مکمل کرائے گئے اسکرپٹ میں اگر تبدیلی کرانی بھی تھی تو وہ جیوتی سروپ سے ہی کرانی چاہیے تھی۔
ایسوسی ایشن سے تین بار رندھیر کپور کو نوٹس بھیجے گئے، لیکن وہ نہیں آئے تو ایسوسی ایشن کا تحریری فیصلہ آر کے۔ فلمز تک پہنچا دیا گیا کہ اگر اسکرین پلے میں جیوتی سروپ کا نام نہ دیا گیا اور ان کے بقایا معاوضے کا چیک ایسوسی ایشن کے دفتر میں نہ بھیجوایا گیا تو فلم کی ریلیز رکوانے میں کوتاہی نہیں برتی جائے گی اور یہ بات آر کے فلمز کے دامن پر ایک بدنما داغ بن کر رہ جائے گی۔
اس نوٹس کا پہنچنا تھا کہ اگلے ہی روز آر کے فلمز کے جنرل منیجر اشوک کول جیوتی سروپ کے معاوضے کا چیک ایسوسی ایشن کے دفتر میں لے آئے۔


