spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
30 July, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

مون سون میں فالج کا خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں

بارش کا موسم جہاں شدید گرمی سے نجات دلا کر موسم کو خوشگوار بنا دیتا ہے، وہیں صحت کے حوالے سے کچھ افراد کے لیے اضافی احتیاط کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ 

ماہرین صحت کے مطابق مون سون کے دوران موسم میں اچانک تبدیلی، ہوا میں نمی کا اضافہ اور مختلف انفیکشنز کا خطرہ خاص طور پر ان افراد کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے جو پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، بلند کولیسٹرول یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں۔

نیورولوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں درجہ حرارت اور نمی میں مسلسل تبدیلیاں جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض افراد کا بلڈ پریشر غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی صورتحال خون کی شریانوں سے متعلق مسائل کا شکار افراد میں فالج کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

صحت کے ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران وائرل انفیکشنز، نزلہ، کھانسی، معدے کی خرابی اور جسم میں پانی کی کمی جیسے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام عوامل جسم پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، جس سے بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں معمولات زندگی میں تبدیلی، جسمانی سرگرمی میں کمی، نیند کے معمولات متاثر ہونا اور ادویات کے استعمال میں لاپرواہی بھی صحت کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

فالج کی علامات پہچاننے کے لیے ’بی ای ایف اے ایس ٹی‘ اصول یاد رکھیں

ڈاکٹرز کے مطابق فالج کسی بھی موسم میں لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے اس کی ابتدائی علامات سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین عوام کو ’بی ای ایف اے ایس ٹی‘ (BE FAST) اصول یاد رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری قدم اٹھایا جا سکے۔

اس اصول کے مطابق اگر کسی شخص میں اچانک جسمانی توازن خراب ہونے لگے، بینائی میں تبدیلی محسوس ہو، چہرے کا ایک حصہ جھک جائے، ہاتھ یا ٹانگ میں کمزوری پیدا ہو یا بولنے میں دشواری پیش آئے تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

’بی ای ایف اے ایس ٹی‘ میں:

بی (B) — اچانک توازن کھو دینا
ای (E) — بینائی میں تبدیلی
ایف (F) — چہرے کا ایک طرف جھک جانا
اے (A) — بازو یا ٹانگ میں کمزوری
ایس (S) — بولنے میں دشواری
ٹی (T) — فوری طبی مدد حاصل کرنے کا وقت

ماہرین کے مطابق فالج کی صورت میں بروقت علاج نہ صرف زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ مستقل معذوری کے امکانات کو بھی کم کر سکتا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی رسک افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی باقاعدگی سے نگرانی کریں، ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات وقت پر استعمال کریں اور روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی کو شامل رکھیں۔

ماہرین کے مطابق متوازن غذا، نمک کا کم استعمال، تمباکو نوشی سے پرہیز اور مناسب مقدار میں پانی پینا بھی فالج کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین صحت واضح کرتے ہیں کہ مون سون خود کوئی خطرناک موسم نہیں، بلکہ ان بیماریوں کو نظر انداز کرنا خطرے کا اصل سبب بنتا ہے جو پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ اگر بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول اور دل کے امراض کو مسلسل قابو میں رکھا جائے اور صحت مند طرز زندگی اپنائی جائے تو فالج سمیت کئی سنگین پیچیدگیوں کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں