امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے لیکن ڈیل کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام مذاکرات میں اب زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شاید اس کی وجہ بھی سب پر واضح ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے ہمارے پاس 2 آپشنز ہیں، کہ یا تو ایران پر حملے جاری رکھیں یا پھر کسی معاہدے پر پہنچ جائیں، مشرق وسطیٰ میں صورتحال بدل چکی ہے، ایران کا اثر و رسوخ اب کم ہو گیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب کو ابراہم اکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے، سعودی عرب ابراہمی معاہدے میں شامل نہ ہوا تو جوہری معاہدہ نہیں کریں گے۔

ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی چین اور روس کے لیے نقصان دہ ہو گی، ٹرمپ

اس سے پہلے ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور روس ایران سے متعلق تنازع میں کسی بھی طرح شریک نہیں ہیں، تاہم اگر دونوں ممالک ایران کو ہتھیار فراہم کر رہے ہیں تو یہ ان کے لئے نقصان دہ ہو گا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے اور چینی کمپنیاں بھی ایران کو اسلحہ فروخت نہیں کریں گی۔

امریکی صدر نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی انہیں یقین دلایا ہے کہ روس ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کو امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی اور بہت جلد اس پر بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔