تہران: ایرانی حکومت نے امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ 8 جولائی کو ملک بھر میں یومِ سوگ منایا جائے گا۔
ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق آخری رسومات اور تدفین کے سلسلے میں مختلف شہروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ حکومت نے عوام سے تقریبات میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی ہے۔
یاد رہے کہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے ابتدائی امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔ سکیورٹی صورتحال کے باعث ان کی آخری رسومات کئی مرتبہ مؤخر کی گئی تھیں، تاہم اب ایرانی حکومت نے باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف جولائی کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کریں گے اور امکان ہے کہ وہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔ دورہ ایران مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم ترکیہ بھی جائیں گے۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی بھی آخری رسومات میں شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں انہیں شہید ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام اور وفود کی شرکت متوقع ہے، جس سے یہ تقریب بین الاقوامی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین اور عالمی رہنماؤں کی شرکت خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال اور ایران کے آئندہ سفارتی روابط کے تناظر میں بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔


