واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو صرف ایک ہفتے کے دوران تقریباً 350 ارب ڈالر کے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کی مجموعی دولت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکی مالیاتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی دولت میں یہ غیر معمولی کمی بنیادی طور پر ان کی کمپنی اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد گراوٹ کے باعث ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کے حصص میں کمی کا اثر صرف کمپنی تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی منڈیوں پر بھی دباؤ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار اب مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے اخراجات، منافع اور مستقبل کی مالی حکمت عملی کا مزید باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں ماہ ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے حصص فروخت کے لیے پیش کیے تھے، جس کے بعد ان کی مجموعی دولت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی اور وہ دنیا کے پہلے “ٹریلینئر” کے طور پر خبروں کی زینت بنے تھے۔ تاہم حالیہ گراوٹ نے ان کی دولت میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
اخراجات کے خدشات نے مارکیٹ کے اعتماد کو متاثر کیا۔


