ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق صرف ایک دن کے دوران ہونے والے حملوں میں 112 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور عوام سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی اور مربوط مہم کا حصہ ہیں، جن میں لبنان کے مختلف علاقوں بشمول وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور دیگر عسکری تنصیبات شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔موجودہ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور انسانی بحران کے خدشات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔


