اسلام آباد: سیاچن کا محاذ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ تصور کیا جاتا ہے جہاں دشمن کے ساتھ ساتھ سخت ترین موسمی حالات بھی پاک فوج کے افسران اور جوانوں کے لیے ایک کڑی آزمائش ہوتے ہیں۔
اسی محاذ پر 7 اپریل 2012 کو ایک نہایت دل خراش سانحہ پیش آیا، جب برفانی تودہ گرنے سے وطن کے دفاع پر مامور پاک فوج کے متعدد جوان اس کی زد میں آ گئے۔
اس المناک حادثے کے نتیجے میں پاکستان آرمی کا ایک بٹالین ہیڈکوارٹر مکمل طور پر برف تلے دب گیا، جہاں موجود 129 بہادر فوجیوں نے وطن عزیز کی حرمت پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ اس سانحے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی ریسکیو ٹیموں نے بھی اس مشکل مشن کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔
تاہم، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار پاک فوج کے انجینئرز کور نے اس چیلنج کو قبول کیا اور افسران و جوانوں کی انتھک محنت، عزم اور بہادری کے باعث یہ مشکل ترین ریسکیو آپریشن مکمل کیا گیا۔ سانحہ گیاری کے شہداء کی یاد میں سیاچن کے محاذ پر یادگار شہداء بھی تعمیر کی گئی ہے۔
آج اس سانحے کی 14ویں برسی کے موقع پر پوری قوم شہدائے گیاری سیکٹر کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے، اور ان کی عظیم قربانی کو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


