ایک نئی سائنسی تحقیق نے یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ روزانہ مختصر دورانیے کی سائیکلنگ نہ صرف دماغی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ بڑھاپے میں لاحق ہونے والی بیماری ڈیمنشیا کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً 17 منٹ سائیکل چلانا اس حوالے سے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں کی جانے والی اس تحقیق میں درمیانی عمر کے 23 زائد وزن کے حامل افراد کو شامل کیا گیا۔ ان میں سے نصف افراد کو 12 ہفتوں پر مشتمل سائیکلنگ پروگرام دیا گیا، جبکہ باقی افراد نے معمول کے مطابق کم یا بالکل ورزش نہیں کی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد باقاعدگی سے سائیکل چلاتے رہے، ان کے خون میں بی ڈی این ایف نامی کیمیکل کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا، جسے عام طور پر دماغ کی ’خوراک‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دماغی خلیات کی نشوونما اور ان کے باہمی رابطے کو بہتر بناتا ہے۔
اس کے برعکس، وہ افراد جو ورزش سے دور رہے، ان میں اس کیمیکل کی سطح میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مزید برآں دماغی اسکینز سے یہ بھی پتا چلا کہ سائیکل چلانے والوں کے دماغ میں توجہ اور کنٹرول سے متعلق کاموں کے دوران کم سرگرمی تھی، جس کا مطلب ہے کہ ان کا دماغ زیادہ مؤثر انداز میں کام کر رہا تھا۔
اگرچہ اس تحقیق کے دوران یادداشت میں واضح بہتری سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ تحقیق کا محدود دورانیہ ہو سکتا ہے۔ اس تحقیقی منصوبے کی قیادت ڈاکٹر فلیمینیا رونکا نے کی، جن کے مطابق جسمانی فٹنس میں اضافہ بی ڈی این ایف کی پیداوار کو بڑھاتا ہے، جو بعد ازاں دماغی صلاحیتوں میں بہتری کا سبب بن سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق شرکاء کو ہفتے میں چار دن 30 سے 45 منٹ تک سائیکلنگ کروائی گئی، جسے روزانہ اوسطاً 17 سے 26 منٹ کی ورزش کے برابر قرار دیا گیا۔ ابتدائی چھ ہفتوں میں ہلکی شدت کی ورزش رکھی گئی جبکہ بعد کے ہفتوں میں اس کی شدت میں اضافہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں ڈیمنشیا کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اندازہ ہے کہ آئندہ دہائیوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معمولی سی جسمانی سرگرمی، جیسے روزانہ سائیکل چلانا، دماغی صحت کو بہتر رکھنے کا ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ بن سکتی ہے۔


