spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

کیا آپ کا ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ ہے؟ نئی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

ورلڈ بیک اپ ڈے (World Backup Day) کے موقع پر جاری ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں 84 فیصد صارفین اپنا حساس ڈیٹا ڈیجیٹل ذرائع میں محفوظ کر رہے ہیں، جس پر ماہرین نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صارفین کی بڑی تعداد اپنی اہم معلومات جیسے شناختی دستاویزات، مالی ریکارڈ، طبی معلومات اور ذاتی تصاویر کو الیکٹرانک ڈیوائسز یا آن لائن پلیٹ فارمز پر محفوظ رکھتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان صارفین (18 سے 34 سال) میں ڈیجیٹل اسٹوریج کا رجحان نمایاں طور پر زیادہ دیکھا گیا ہے۔

اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 56 فیصد افراد اپنا ڈیٹا کمپیوٹرز یا ہارڈ ڈرائیوز میں محفوظ کرتے ہیں، جبکہ 45 فیصد کلاؤڈ سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک قابلِ ذکر تعداد سرکاری ڈیجیٹل سسٹمز کو بھی استعمال کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈیجیٹل اسٹوریج سہولت اور فوری رسائی فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ سائبر حملوں، ڈیٹا لیکس اور غیر مجاز رسائی جیسے سنگین خطرات بھی وابستہ ہیں۔

اسی تناظر میں صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے باقاعدہ بیک اپ حکمتِ عملی اپنائیں، خصوصاً “3-2-1 اصول” پر عمل کریں، جس کے تحت ڈیٹا کی تین کاپیاں، دو مختلف میڈیمز میں، اور ایک علیحدہ مقام (جیسے کلاؤڈ) پر محفوظ کی جائے۔

مزید برآں، حساس معلومات جیسے پاس ورڈز اور مالی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید سیکیورٹی ٹولز اور انکرپشن کا استعمال ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، ڈیجیٹل دور میں ڈیٹا کا بیک اپ اب محض ایک احتیاطی اقدام نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں