غذر: 14 اگست 2025 کے تباہ کن سیلاب میں تاریخی داٸن پل دریا برد ہوگیا تھا، تاہم وفاقی وزیر امور کشمیر و سیفران، انجینئر امیر مقام کے دورے کے دوران اس پل کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ تعمیراتی کام اب زور و شور سے جاری ہے۔
یہ پل ٹاور سے چٹورکھنڈ کے درمیان، نالہ چٹورکھنڈ کے عین وسط میں واقع ہے۔ محکمہ تعمیرات نے خبردار کیا ہے کہ شدید طغیانی کی صورت میں پل دوبارہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کی تجویز ہے کہ ٹاور کی حفاظت کے لیے چند سو فٹ کا کنکریٹ حفاظتی وال بھی تعمیر کیا جائے۔


