spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
28 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

گلگت بلتستان میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے سے زرعی انقلاب آئے گا: نگران وزیر اعلیٰ

گلگت۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے ای ٹی آئی (اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشیٹیو) گلگت بلتستان کی طرف سے دیئے جانے والے بریفنگ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں قابل کاشت زمین بہت کم ہے۔

ای ٹی آئی (اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشیٹیو) گلگت بلتستان کے ذریعے سے بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے اور زرعی اجناس کی مارکیٹ تک رسائی کو ممکن بنانے سے زرعی شعبے میں نیا انقلاب آئے گا۔

مقامی سطح پر عوام کی معیار زندگی میں بہتری آئے گی اور گلگت بلتستان زرعی شعبے میں خود کفالت کی منزل کی طرف گامزن ہوسکے گا۔

نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے حوالے سے 27 ارب کا منصوبہ وفاقی حکومت اور اٹلی کی حکومت کی جانب سے بہت بڑا اقدام ہے۔

بنجر زمینوں کو آباد کرنے کے بعد مقامی کسانوں کو زرعی شعبے میں جدید تحقیق کی روشنی میں تربیت کا بندوبست کیا جائے۔ ابتدائی مرحلے میں زمین کا سوائل ٹیسٹنگ لازمی کرایا جائے تاکہ مقامی کسان موضوں زرعی اجناس اور فصلوں سے استفادہ حاصل کرسکیں۔

نگران وزیر اعلیٰ نے ای ٹی آئی (اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشیٹیو) گلگت بلتستان کی جانب سے مقامی کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی قرضوں کی فراہمی ممکن بنانے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے مقامی کسانوں کو بروقت بیج اور کھاد کی دستیابی ممکن ہوسکے گی۔

گلگت بلتستان کے بیشتر اضلاع میں رہنے والی آبادی کا انحصار زرعی شعبے پر ہے۔ سکولوں کی سطح پر ایگری کلچر ٹیک فیلوز کے ذریعے طلب علموں میں زرعی شعبے اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے آگاہی مہم کا انعقاد نئی نسل میں زرعی شعبے کی افادیت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

اس موقع پر نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غیر آباد زمینوں کی ترقی،حیثیت اور پانی کی رسائی جیسے پیچیدہ معاملات کو حل کرنے کیلئے قانون سازی کرکے کمیونٹی ایشوز نمٹایا جائے تاکہ متعلقہ زمین کی فوری آبادکاری ممکن ہوسکے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں