spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 March, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

بلڈ شوگر ہائی ہے یا لو؟ آنکھیں سب بتا دیں گی، لیکن کیسے؟ ؟

طویل عرصے تک خون میں شوگر کی سطح کا بڑھا رہنا نہ صرف دل، گردوں اور اعصاب کو متاثر کرتا ہے بلکہ آنکھوں کے لیے بھی ایک خاموش خطرہ بن جاتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں میں اگر بلڈ شوگر قابو میں نہ رہے تو سب سے پہلے اس کے اثرات آنکھوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بینائی کی کمزوری مستقل نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔

آج کے دور میں غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، ذہنی دباؤ اور موروثی عوامل کی وجہ سے ذیابیطس تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ایک بار یہ مرض لاحق ہو جائے تو اس کا مؤثر حل صرف یہی ہے کہ شوگر کی سطح کو مستقل طور پر کنٹرول میں رکھا جائے۔

آنکھوں میں شوگر بڑھنے کی نمایاں علامات

ماہرین کے مطابق جب خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو آنکھ کے پردے (ریٹینا) میں موجود باریک خون کی نالیاں متاثر ہونے لگتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں آنکھوں میں سوجن اور پانی بھرنے کا احساس ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ نظر کا دھندلا ہونا، چیزوں کو پہچاننے میں دشواری، ایک یا دونوں آنکھوں میں کمزوری کا احساس ہونا۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے تو آنکھ کی چھوٹی نالیاں پھٹ سکتی ہیں جس سے بینائی مستقل طور پر متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں موتیا بند اور گلوکوما جیسی بیماریاں لاحق ہونے کا امکان بھی عام افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، جو آپٹک نرو کو نقصان پہنچا کر نظر کمزور کر سکتی ہیں۔

طبی جریدے جے اے ایم اے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، وہ ذیابیطس مریض جن کی شوگر طویل عرصے تک زیادہ رہتی ہے، ان میں آنکھوں کی سوجن، پانی بھرنے اور نظر دھندلانے جیسی علامات عام پائی گئیں، جو بعد میں سنگین مسائل میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

مفید عادات

ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ ہائی بلڈ شوگر والے افراد اپنی روزمرہ زندگی میں چند سادہ مگر مؤثر تبدیلیاں لا کر آنکھوں سمیت پورے جسم کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اپنی روز مرہ کی خوراک میں پالک اور دیگر پتوں والی سبزیاں، جو فائبر اور میگنیشیم سے بھرپور ہوں، ابلا ہوا یا بھاپ میں پکا ہوا کھانا، تلی ہوئی اشیاء کے بجائے نارنگی، سیب، جامن اور امرود جیسے پھلوں کا استعمال، کم گلیسیمک انڈیکس والے اناج جیسے براؤن رائس اور دالیں، دن میں کم از کم ایک بار دال کو خوراک میں ضرور شامل کریں

جن چیزوں سے پرہیز کرنا ہے ان میں فاسٹ فوڈ اور تلی ہوئی اشیاء، زیادہ نمک اور زیادہ چکنائی والی غذائیں، میٹھے مشروبات، آئس کریم اور بیکری آئٹمز، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کے قریب بھی مت جانا

بہتر طرزِ زندگی کی چند تجاویز

متاثرہ مریض ناشتہ میں تلی ہوئی اشیاء کے بجائے جئی اور دال کو ترجیح دیں دوپہر کے کھانے میں سبزیوں کا حصہ بڑھائیں اور چاول کم رکھیں، فائبر سے بھرپور غذا کو روزمرہ معمول بنائیں اور ہفتے میں ایک دو بار چقندر بھی شامل کریں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں