دل کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں اور ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی بالخصوص خوراک اس خطرے کو کم یا زیادہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے شعبۂ پیتھالوجی سے وابستہ کینسر ریسرچر اور پی ایچ ڈی طالبہ نے 8 ایسے عام فوڈ پریزرویٹوز (خوراک کو محفوظ رکھنے والے اجزا) کی نشاندہی کی جو دل کی بیماریوں اور بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کے خطرے میں اضافے سے منسلک پائے گئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق بعض فوڈ ایڈیٹوز اور پریزرویٹوز کی زیادہ مقدار جسم میں دل کی بیماریوں اور بلند فشارِ خون کے خطرات میں اضافے سے منسلک ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں جن آٹھ پریزرویٹوز کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ان میں پوٹاشیم سوربیٹ (E202)، پوٹاشیم میٹا بائی سلفائٹ (E224)، سوڈیم نائٹرائٹ (E250)، ایسکاربک ایسڈ (E300)، سوڈیم ایسکاربیٹ (E301)، سوڈیم اریتھوربیٹ (E316)، سٹرک ایسڈ (E330) اور روزمیری کے عرق (E392) شامل ہیں۔
محققین کے مطابق جن افراد میں ان اجزا کی مقدار نسبتاً زیادہ پائی گئی ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 29 فیصد جبکہ دل کی بیماریوں، بشمول ہارٹ اٹیک، فالج اور انجائنا کا خطرہ 16 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔
پی ایچ ڈی طالبہ اور محقق انا کیناڈاس کا کہنا ہے کہ فوڈ پریزرویٹوز دنیا بھر میں صنعتی طور پر تیار کردہ لاکھوں غذائی مصنوعات میں استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی شیلف لائف بڑھائی جا سکے اور معیار برقرار رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق تحقیق کے تمام شرکا کسی نہ کسی حد تک ان اجزا کے سامنے آئے جس سے ان کے ممکنہ اثرات مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق کے نتائج کی مزید توثیق کے لیے اضافی مطالعات کی ضرورت ہے تاہم یہ نتائج اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ پراسیس شدہ خوراکوں کے زیادہ استعمال سے گریز اور قدرتی و متوازن غذا کا انتخاب دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔


