واشنگٹن: ایران جنگ کے دوران تباہ ہونے والے امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے کے ایک پائلٹ کے انکشافات نے دفاعی اور عسکری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پائلٹ کا دعویٰ ہے کہ نشانہ بننے سے قبل اس نے ایرانی ڈرونز کو ایک غیر معمولی “جیلی فش فارمیشن” میں پرواز کرتے دیکھا تھا، جو بظاہر فضا میں بچھائی گئی کسی بارودی سرنگ جیسا منظر پیش کر رہی تھی۔
پائلٹ نے بتایا کہ یہ فارمیشن اتنی پیچیدہ اور غیر معمولی تھی کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے فضا میں ڈرونز کی ایک متحرک بارودی سرنگ نصب ہو، جو کسی بھی لمحے ہدف کو گھیر سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پائلٹ کے اس بیان نے امریکی دفاعی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی میں غیر معمولی پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں ڈرونز کے جھنڈ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فارمیشنز مستقبل کی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بن سکتی ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کو اس شعبے میں چین اور روس کی تکنیکی معاونت حاصل ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی، تاہم اس انکشاف نے عالمی دفاعی حلقوں کی توجہ ایرانی ڈرون پروگرام کی جانب ایک بار پھر مبذول کرا دی ہے۔
تھا۔


