برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے الوداعی پیغام میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا میری قیادت میں برطانیہ نے ترقی کی ہے، اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنایا۔
انہوں نے کہا کہ دو سال پہلے منصب سنبھالا تو انتہائی پرجوش تھا۔ برطانوی عوام کی فلاح و بہبود میری ترجیح رہی۔ دو سال میں ہم نے اپنی پارٹی اور معیشت کو مضبوط کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معیشت کو دو سال میں مضبوط کیا، ہمیں بار بار بتایا گیا کہ ہماری پارٹی کمزور اور ختم ہوگئی ہے۔ تبدیلیاں راتوں رات نہیں آتیں، وقت درکار ہوتا ہے۔ آنے والے وزیر اعظم سے مکمل تعاون اور حمایت کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے فیصلے سے برطانوی بادشاہ کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر ایک دہائی کے دوران مستعفی ہونے والے برطانیہ کے چھٹے وزیر اعظم ہیں۔
کچھ روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے باعث جلد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ کیئر اسٹارمر دو اہم شعبوں، امیگریشن اور توانائی کی پالیسیوں میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر شمالی سمندر میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کے استعمال سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ برطانوی حکومت ان وسائل سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا تھا کہ وہ کیئر اسٹارمر کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔۔


