spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
22 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 15 برس بیت گئے

مزاح کے بے تاج بادشاہ اور جنوبی ایشیا کے عظیم فنکار معین اختر کی آج 15ویں برسی ہے۔ لیجنڈ معین اختر نے کامیڈی، اداکاری، کمپیئرنگ سمیت فنون لطیفہ کی ہر فیلڈ میں اپنا لوہا منوایا۔

کروڑوں چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے معین اختر کو دنیا سے رخصت ہوئے 15 برس بیت گئے، مزاح سے لے کر پیروڈی تک اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختر وہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان ٹیلی ویژن اور اردو مزاح کی تاریخ ادھوری ہے۔

معین اختر 24 دسمبر 1950ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، زندگی کی پہلی پرفارمنس شیکسپئیر کے ناول سے ماخوذ اسٹیج ڈرامے ’دی مرچنٹ آف وینس‘ میں محض 13 برس کی عمر میں دی جب کہ فنی کیرئیر کی باقاعدہ شروعات پاکستان کے پہلے یوم دفاع پر 1966ء میں کی۔

لیجنڈ اداکار معین اختر کو فن کی اکیڈمی کہا جاتا تھا کیونکہ فلم ہو یا ٹی وی یا پھراسٹیج ڈرامہ انہوں نے ہر شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ان کے طنز ومزاح سے بھرپور جملوں نے تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا۔

ساتھی اداکاروں کے مطابق معین اختر محض اداکار ہی نہیں بلکہ ایک دور کا نام تھا جنہوں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھائی، فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

معین اختر کے معروف ٹی وی ڈراموں میں روزی، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نو سر اورعید ٹرین شامل ہیں، ڈرامہ روزی میں ان کا کردار شاید کبھی نہ بھلایا جاسکے۔

ان کے کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں، ایک نجی چینل کے لیے ان کے طنز ومزاح سے بھرپور ٹی وی شوز کی، چارسو اقساط کا نشر ہونا بھی ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

معین اختر 22 اپریل سن 2011 کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔

ساتھی فنکاروں کے مطابق پاکستان کی ثقافت کو ڈراموں اور شوز کے ذریعے جس طرح سے معین اختر نے متعارف کروایا، کوئی دوسرا شائد ہی یہ کام اس خوبی سے کرسکے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں