spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

جب علّامہ اقبال نے بحیثیت ممتحن طلبا کو اضافی نمبر دیے!

شاعرِ مشرق علّامہ اقبال کے فکر و فن اور ان کی شخصیت پر اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور آئندہ بھی لکھا جائے گا، مگر یہ بھی درست ہے کہ علامہ اقبال کا ہر عمل اور قول اپنے عصر کے حوالے سے بہت بامعنی رہا ہے جس کی وجہ سے ان کے سوانح نگار کی ذمہ داریاں دو چند ہو جاتی ہیں۔

علّامہ کی زندگی کے کئی گوشے اور اس کے مختلف پہلو جس طرح ان کے رفقاء نے بیان کیے ہیں وہ پُرلطف اور دل چسپ بھی ہیں۔ ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی کو علّامہ اقبال کی رفاقت کا اعزاز حاصل رہا۔ انھوں نے اقبال کو سیاسی جلسوں میں دیکھا، سنا اور 1923ء سے ان کی رحلت تک ان کے ہم راہ سفر اور حضر بھی کیا۔ چغتائی صاحب نے بعد میں اپنی یادداشتوں اور مشاہدات کو “اقبال کی صحبت میں” کے نام سے قلم بند کیا۔ اسی کتاب سے یہ پارہ پیشِ خدمت ہے۔

پنجاب یونیورسٹی سے علامہ اقبال کا تعلق بہت قدیم تھا اور یونیورسٹی کے ہر شعبے کا عملہ ان کا بے حد احترام کرتا تھا۔

پنجاب یونیورسٹی سے علامہ کا تعلق ممتحن کی حیثیت سے بھی تھا۔ آپ یونیورسٹی کے ایم اے اور ایل ایل بی کے پرچے دیکھتے تھے۔ پرچے دیکھنے کے سلسلے میں آپ کا اصول یہ تھا کہ ہر روز جتنے پرچے دیکھ لیتے تھے، انھیں اسی شام کو علی بخش کے ہاتھ رجسٹرار کو بھیج دیا جاتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ جس حد تک ممکن ہو سفارش کی لعنت سے بچا جائے۔ ویسے تو ان کا عزیز سے عزیز دوست اور رشتہ دار بھی سفارشی نمبروں کے لیے جرأت نہیں کر سکتا تھا، پھر بھی وہ اپنے طور پر اس قسم کی پیش بندیاں ضروری خیال فرماتے تھے۔

ایک مرتبہ ایل ایل بی کے ایک طالبِ علم نے، جو اکثر امتحان میں فیل ہو جاتا تھا، ڈاکٹر تاثیر اور راقم سے کہا کہ علّامہ سے میرے کچھ نمبر بڑھانے کی درخواست کی جائے کیونکہ یہ پرچہ بہت ہی مشکل تھا، مگر ہم نے اس سے صاف کہہ دیا کہ اس بات کی جرأت کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ تاہم جب اس نے بہت زیادہ اصرار کیا تو ہم صرف اتنی بات پر راضی ہوئے کہ پورے پرچے پر اصولی بات چیت ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ہم نے علّامہ سے پرچے کی مشکلات پر بات کی تو آپ نے ایک اصول کے تحت تمام امیدواروں کے پرچوں پر نظرِ ثانی کی اور سب کے نمبر بڑھا دیے جس سے اس خاص امیدوار کو بھی فائدہ پہنچا اور اتفاق سے وہ پاس بھی ہو گیا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں