spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

دماغی ٹیومر کی بروقت شناخت اور ابتدائی علامات، ماہرین کی ہدایات

دماغی ٹیومر ایک سنگین طبی مسئلہ ہے جس میں دماغ کے خلیات غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں۔ یہ ٹیومر مہلک (کینسرس) یا غیر مہلک (بینائن) دونوں قسم کے ہو سکتے ہیں اور دماغ کے اہم افعال اور روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔

ٹیومر کی علامات عموماً اس کے سائز، مقام اور نمو کی رفتار پر منحصر ہوتی ہیں۔ ابتدائی مراحل میں یہ علامات ہلکی یا غیر مخصوص ہو سکتی ہیں، جس کے سبب اکثر انہیں عام بیماریوں یا تھکن سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ علامات واضح اور مسلسل ہو جاتی ہیں، اور مناسب طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

دماغی ٹیومر کی اہم علامات

  1. شدید یا غیر معمولی سر درد:
    عام سر درد سے مختلف، وقت کے ساتھ بڑھتا ہوا، یا صبح کے اوقات میں زیادہ شدید۔
  2. دورے (Seizures):
    نابالغ یا بالغ افراد میں اچانک دورے پڑنا، خاص طور پر جب اس کی کوئی سابقہ تاریخ نہ ہو۔
  3. جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا بے حسی:
    خصوصاً ہاتھ یا ٹانگ میں، جو چلنے یا روزمرہ کاموں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
  4. بول چال اور فکری صلاحیت میں دشواری:
    الفاظ کا مناسب استعمال نہ کر پانا، یا بات سمجھنے اور اظہار کرنے میں مشکلات۔
  5. نظر میں تبدیلیاں:
    دھندلا دیکھنا، دگنی نظر، یا بصارت میں محدودیت۔
  6. یادداشت اور توجہ میں کمی:
    توجہ مرکوز کرنے یا معلومات یاد رکھنے میں مشکلات۔
  7. شخصیت یا رویے میں تبدیلی:
    مزاج میں غیر معمولی ردوبدل، فیصلہ سازی میں مشکل، یا رویے میں نمایاں فرق۔
  8. توازن اور حرکی صلاحیت میں مسائل:
    چلنے میں دشواری، بار بار ٹھوکر کھانا، یا ہاتھ پاؤں کی ہم آہنگی میں کمی۔
  9. علمی اور فکری صلاحیت میں کمی:
    مسائل حل کرنے، نئی معلومات سمجھنے یا سیکھنے میں مشکلات۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ علامات نئی، مسلسل یا بڑھتی ہوئی ہوں، تو فوراً نیورولوجسٹ یا ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ابتدائی تشخیص کے لیے MRI یا CT اسکین اکثر ضروری ہوتے ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج دماغی ٹیومر کے اثرات کو کم کرنے اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں