spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
1 March, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ میں قرارداد منظور

نیو یارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی سمگلنگ کے مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔ 193 رکنی جنرل اسمبلی نے “2025 پولیٹیکل ڈیکلریشن برائے نفاذ گلوبل پلان آف ایکشن ٹو کمبیٹ ٹریفیکنگ ان پرسنز” کے عنوان سے ایک تاریخی قرارداد منظور کی، جس میں انسانی سمگلنگ کی شدید مذمت کی گئی اور اس جرم کو نہ صرف سنگین بلکہ انسانی وقار پر شدید حملہ قرار دیا گیا۔

اس قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسانی سمگلنگ کی بنیادی وجوہات کو سمجھتے ہوئے، خصوصاً خواتین اور بچوں کے حوالے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں کو تیز کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ نے عالمی سطح پر اس جرم کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستان کے نائب مستقل مندوب، عثمان جدون نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی سمگلنگ عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو دنیا بھر کے معاشروں اور افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلح تنازعات، ماحولیاتی آفات اور معاشی عدم مساوات انسانی سمگلنگ کے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

عثمان جدون نے خاص طور پر بچوں کو اس جرم کا شکار بننے کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو انسانی نقل و حرکت کے حوالے سے تین اہم حیثیتیں رکھتا ہے: روانگی، گزرگاہ اور میزبان ملک۔ اس لیے پاکستان کے لیے انسانی سمگلنگ ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کے بنیادی اسباب جیسے معاشی ناہمواری، قانونی و محفوظ ہجرت کے محدود راستے اور تنازعات کے حل و تدارک کے اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں