صدیوں سے انسان بڑھاپے کو روکنے اور ہمیشہ جوان رہنے کا خواب دیکھتا آیا ہے، اور اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی امید ایک ننھے سے سمندری جاندار سے وابستہ ہو سکتی ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق ایک خاص قسم کی جیلی فش میں موجود حیاتیاتی خصوصیات عمر رسیدگی کو سمجھنے اور مستقبل میں اس پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تحقیق کا مرکز ’’ہائیڈریکٹینیا سمبیولانگیکارپس‘‘ نامی جیلی فش ہے، جس میں اپنے جسم کو دوبارہ تخلیق کرنے کی غیر معمولی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ سمندری جاندار اپنے منہ کے اندر موجود مخصوص خلیات کی مدد سے اپنے جسم کے مختلف حصوں کو دوبارہ بنا سکتا ہے، جو اسے دیگر جانداروں سے منفرد بناتا ہے۔
یہ ننھی، نلکی نما مخلوق عموماً سمندر میں پائے جانے والے مخصوص کرسٹیشین جانوروں کے خولوں پر رہتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی حیرت انگیز تخلیقی صلاحیتیں انسانی جسم میں بڑھاپے، بیماریوں اور خراب ٹشوز کی مرمت سے متعلق نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔
سائنسدانوں نے اس جیلی فش کے جینیاتی مواد کا تجزیہ کرتے ہوئے آر این اے کے ایسے حصوں کی نشاندہی کی، جن کا تعلق عمر بڑھنے کے حیاتیاتی عمل سے ہے۔ سیل رپورٹس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جسم کے بنیادی حیاتیاتی نظام ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، اور ان کی بہتر سمجھ مستقبل میں انسانی بیماریوں کے علاج اور صحت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگرچہ انسانوں میں بھی کسی حد تک جسمانی مرمت کی صلاحیت موجود ہے، مثلاً ٹوٹی ہوئی ہڈی کا جڑ جانا یا جگر کا کچھ حصہ دوبارہ بن جانا، تاہم بعض دیگر جاندار اس سے کہیں زیادہ حیران کن صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیلامینڈر اور زیبرا فش اپنے مکمل اعضا دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ ہائیڈریکٹینیا جیسے سادہ جسم والے جاندار اپنے جسم کے مختلف حصوں کو نئی شکل دینے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکا کے نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (NHGRI) سے وابستہ محقق ڈاکٹر اینڈی بیکسوانیس کے مطابق ایسے جانداروں کا مطالعہ تخلیقِ نو اور بڑھاپے سے متعلق کئی پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہی معلومات ایسے علاج کی بنیاد بن سکتی ہیں جو خراب اعضا کی دوبارہ نشوونما اور عمر سے متعلق بیماریوں کے علاج میں معاون ثابت ہوں۔
تحقیقی ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ ہائیڈریکٹینیا اپنی جسمانی تجدید کے لیے اسٹیم سیلز استعمال کرتی ہے، جنہیں ’’ماسٹر سیلز‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ مختلف اقسام کے ٹشوز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین نے انسانوں میں بھی ایسے جینز کی نشاندہی کی ہے جو اس جیلی فش کے جینز سے مماثلت رکھتے ہیں، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں بڑھاپے اور جسمانی کمزوریوں کے علاج کے لیے نئی طبی پیش رفت ممکن ہوسکے گی۔


