spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

امریکا کی دھمکیاں، کیوبا کا 2 ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان

کیوبا کی حکومت نے 2,010 قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق کیوبا حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے تیل کی ناکہ بندی اور حملے کی دھمکی سے حکومت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔

جزیرے بھر میں بلیک آؤٹ نے کیوبا میں زندگی کو تقریباً مکمل طور پر مفلوج کردیا ہے۔
اعلان میں کہا گیا ہے کہ معافی مقدس ہفتے کے سلسلے میں ایک “انسان دوستی کے اشارے” کے طور پر ہے۔ تاہم حکومت نے امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے دباؤ کا ذکر نہیں کیا۔

 

کیوبا حکومت نے کہا کہ رہائی پانے والے قیدی غیر ملکی اور کیوبا کے ہیں جن میں خواتین، بوڑھے اور نوجوان شامل ہیں۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کب رہا کیا جائے گا یا کن شرائط پر اور نہ ہی اس میں ان جرائم کا ذکر کیا گیا جن کے ارتکاب کا الزام تھا۔

حکام نے اس بارے میں بھی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ آیا معاف کیے جانے والوں میں سے کوئی بھی مظاہرین کو دہشت گردی، توہین یا عوامی انتشار کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی یا نہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں