spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام خط

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کی امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی ایران ان کے لیے خطرہ ہے۔

ایرانی صدر نے اپنے خط میں کہا کہ ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا نہ صرف موجودہ حقائق کے منافی ہے بلکہ تاریخی تناظر میں بھی درست نہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اہم انفرااسٹرکچر پر حملے دراصل ملک کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں جن کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے حالیہ حملوں کا جواب عزم اور حوصلے کے ساتھ دیا اور اپنی خودمختاری کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

صدر پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران میں واشنگٹن کے حوالے سے عدم اعتماد کی کئی وجوہات ہیں، جن میں غیر ملکی مداخلت اور غیر انسانی پابندیاں شامل ہیں۔ انہوں نے 1953 کی فوجی بغاوت کو اس عدم اعتماد کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حقائق کو درست تناظر میں دیکھا جائے اور عوامی سطح پر بہتر تعلقات کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں