spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

خلا سے سمندری تہہ کی پہلی جھلک، ناسا نے نیا نقشہ جاری کر دیا

اکثر کہا جاتا ہے کہ انسان چاند کے بارے میں سمندروں کی تہہ سے زیادہ جانتا ہے، اور اب بھی زمین کے بیشتر سمندری حصے انسانی علم سے باہر ہیں۔

تاہم اس صورتحال میں تبدیلی کی امید پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ نے سمندری تہہ کا ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے، جو خلا سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

یہ نقشہ ایک جدید سیٹلائٹ ’سرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی سیٹلائٹ‘ کی مدد سے تیار کیا گیا، جو ناسا اور فرانس کے خلائی ادارے CNES کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس سیٹلائیٹ کو دسمبر 2022 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔

یہ جدید نظام زمین کے گرد گردش کرتے ہوئے ہر 21 دن میں تقریباً 90 فیصد سیارے کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف سمندروں بلکہ جھیلوں اور دریاؤں کی سطح کی بلندی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس سے پانی کے نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ناسا کے مطابق اس مشن کا مقصد رواں دہائی کے اختتام تک دنیا بھر کی سمندری تہہ کا تفصیلی نقشہ تیار کرنا ہے، تاکہ ان علاقوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں جو اب تک ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے صرف سائنسی تحقیق ہی نہیں بلکہ عملی شعبوں میں بھی فائدہ ہوگا۔ سمندری راستوں کی بہتری، نیوی گیشن، زیرِ سمندر کمیونیکیشن کیبلز کی تنصیب، معدنی وسائل کی تلاش اور ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی جیسے شعبوں میں یہ معلومات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔یوں خلا سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا نہ صرف سمندروں کے پوشیدہ رازوں کو سامنے لانے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں کئی نئی سائنسی اور معاشی پیش رفت کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں