spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ڈریپ کی ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خبروں کی تردید

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ضروری  ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق زیرِ گردش خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ان کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

ترجمان ڈریپ کے مطابق ضروری ادویات، بشمول انسولین اور دیگر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا، گزشتہ چند ماہ کے دوران ادویات کی قیمتوں میں کسی نئے اضافے کی منظوری نہیں دی گئی۔

ترجمان نے بتایا کہ ضروری ادویات کی فہرست میں شامل ادویات کی قیمتوں میں فارماسیوٹیکل کمپنیاں از خود اضافی نہیں کر سکتی ہیں، ڈریپ نے ادویات کی دستیابی کے حوالے سے کڑی نگرانی کو یقینی بنارہی ہے، ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں۔

ڈریپ نے بطور ریگولیٹر تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو دو اہم ایڈوائزریز جاری کی ہیں، فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خام مال کے حصول کے متعدد ذرائع اختیار کریں، مناسب ذخیرہ برقرار رکھیں تاکہ عالمی سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث ادویات کی قلت سے بچا جا سکے۔

ترجمان ڈریپ کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 85 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں، موجودہ عالمی یا علاقائی حالات کے پیش نظر راستوں کی ممکنہ رکاوٹیں، ادویات کی فراہمی پر اثرانداز نہیں ہو رہیں تاہم فارماسیوٹیکل صنعت کے رہنماؤں کے مطابق اس وقت ملک میں ادویات کی کمی کا کوئی فوری خطرہ نہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ بیشتر کمپنیوں کے پاس آئندہ 4 سے 6 ماہ کے لیے خام مال اور تیار ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے، تمام میڈیا ہاؤسز سے کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل اتھارٹی سے تصدیق ضرور کریں تاکہ عوام میں غیر ضروری تشویش اور بے چینی پیدا نہ ہو۔

تاہم ڈریپ عوام کو محفوظ، مؤثر اور معیاری ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں