spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

فلسفی سے فیلڈ کمانڈر تک، شہید علی لاریجانی، ایران ایک بڑے دماغ سے محروم ہو گیا

ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری 67 سالہ علی لاریجانی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، اسی حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہوئے۔

علی لاریجانی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کا ڈی فیکٹو لیڈر سمجھا جا رہا تھا۔

وہ نہ صرف ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری تھے بلکہ جنگی حالات میں سیاسی و عسکری حکمت عملی کے مرکزی کردار بھی بن چکے تھے۔

3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی ایران کے اعلیٰ اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔

شہید علی لاریجانی نے نہ صرف سیاست بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے امانوئل کانٹ جیسے مغربی فلسفی پر تحقیق کی اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

اپنے کیریئر کے آغاز میں انہوں نے پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دیں، بعد ازاں وہ وزیر ثقافت، سرکاری ٹی وی کے سربراہ اور پھر طویل عرصے تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔

 2015 کے جوہری معاہدے کی منظوری میں بھی ان کا کلیدی کردار تھا جس سے وہ ایک معتدل اور عملی سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے۔

تاہم حالیہ جنگی حالات نے ان کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے خلاف ان کے بیانات انتہائی سخت ہو گئے تھے، اور وہ کھل کر مزاحمت کی قیادت کرتے نظر آئے۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور امریکی افواج کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رپورٹس کے مطابق لاریجانی تہران میں ایک خفیہ مقام پر موجود تھے جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ان کی شہادت ایران کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سیاسی قیادت، عسکری حکمت عملی اور سفارتی رابطوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہے تھے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں