spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ہونٹ کی بناوٹ کو دیکھ الفاظ سیکھنے والا انوکھا روبوٹ تیار

کولمبیا یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو لفظوں کی ادائیگی کی صورت میں ہونٹوں کی بناوٹ کو دیکھ کر سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ ہونٹ کہے گئے الفاظ کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہوسکے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے روبوٹکس کے پی ایچ ڈی طالب علم یوہانگ ہو، پروفیسر ہود لپسن اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے تیار کیا گیا ایمو نامی یہ روبوٹ دراصل ایک روبوٹک سر ہے جس میں 26 چھوٹے موٹرز اس کی لچکدار سلیکون کی جلد کے نیچے نصب ہیں، جب یہ موٹرز مختلف کمبینیشنز میں حرکت کرتے ہیں، تو چہرہ مختلف تاثرات اختیار کرتا ہے اور ہونٹ مختلف شکلیں بناتے ہیں۔

سائنسدانوں نے سب سے پہلے ایمو کو ایک آئینے کے سامنے رکھا، جہاں یہ خود کو دیکھتے ہوئے بے ترتیب طور پر ہزاروں چہرے کے تاثرات بناتا رہا۔ اس عمل نے اسے سکھایا کہ کس موٹر ایکٹیویشن کے مجموعے سے کون سے چہرے کے تاثرات پیدا ہوتے ہیں،  یہ سیکھنے کا طریقہ “ویژن ٹو ایکشن” (VLA) زبان ماڈل کہلاتا ہے۔

اس کے بعد روبوٹ نے یوٹیوب ویڈیوز دیکھیں جن میں لوگ باتیں کر رہے تھے اور گانا گا رہےتھے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ کون سی ہونٹ کی حرکتیں کون سی آوازوں کے ساتھ آتی ہیں۔

روبوٹ میں موجود مصنوعی ذہانت کے نظام نے اس علم کو VLA ماڈل کے ساتھ ملا دیا، جس کی بدولت اس نے مصنوعی آواز کے ماڈیول کے ذریعے بولتے ہوئے ہونٹوں سے مشابہ حرکتیں پیدا کیں۔

یہ ٹیکنالوجی ابھی مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں ہے، اس میں خامیاں موجود ہیں کیونکہ ایموکو ابھی بھی بی اور ڈبلیو اور جیسے آوازوں میں دشواری کا سامنا ہے۔

 تاہم، جیسے جیسے یہ مزید بولنے کی مشق کرتا جائے گا، اس کی صلاحیت میں مزید بہتری آئے گی اور یہ مسقبل میں انسانوں کے ساتھ قدرتی طور پر گفتگو کرنے میں کامیاب ہو سکے گا۔

یوہانگ کا کہنا ہے کہ جب لِپ سنک کی صلاحیت کو چیٹ جی پی ٹی یا جمنائی جیسے بات چیت کرنے والے مصنوعی ذہانت کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، تو اس کا اثر انسان کے ساتھ روبوٹ کے تعلق کو ایک نیا انداز فراہم کرتا ہے۔ جتنا زیادہ روبوٹ انسانوں کو بات کرتے ہوئے دیکھے گا، اتنا ہی یہ ان چہرے کے ہنر کو بہتر طور پر نقل کرنے کے قابل ہو گا جن سے ہم جذباتی طور پر جڑتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں