spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

پاکستان میں ادویات اور میڈیکل آلات کی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ

اسلام آباد: پاکستان میں ادویات اور میڈیکل آلات کی برآمدات میں 34 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے مطابق برآمدات میں یہ اضافہ ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف نظام اور ڈیجیٹل اقدامات کا نتیجہ ہے۔

ڈریپ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ موثر ریگولیٹری نظام کے ذریعے اربوں روپے کی بچت ممکن بنائی گئی ہے جبکہ ان اصلاحات کا براہِ راست فائدہ عوام کو بھی پہنچا ہے، ریگولیٹری امور کا تقریباً 70 فیصد حصہ ڈیجیٹل ہو چکا ہے اور مارچ تک اسے 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ آن لائن میڈیکل ڈیوائسز رجسٹریشن سسٹم، ای آفس اور ون ونڈو سہولت جیسے اقدامات سے نہ صرف تاخیر میں نمایاں کمی ہوئی بلکہ برآمدات کے فروغ کے لیے سرٹیفکیشن کے اجرا کے دورانیے کو بھی کم کر دیا گیا ہے، ادویات کی برآمدی رجسٹریشن کا دورانیہ 60 دن سے کم ہو کر صرف 10 دن رہ گیا ہے۔

ڈریپ کے مطابق ایف ایس سی اور سی او پی پی جیسے سرٹیفکیٹس جو پہلے 30 دن میں جاری ہوتے تھے، اب 5 دن میں فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا دورانیہ بھی کم ہو کر تقریباً 20 دن رہ گیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کو دواسازی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے ون ونڈو سہولت کے تحت اقدامات جاری ہیں، نئی تھراپیز اور کینسر کے علاج سے متعلق مصنوعات کے لیے تیز رفتار منظوری کا نظام بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔

ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے قومی سطح پر کوالٹی کنٹرول لیبارٹری نیٹ ورک قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ قومی ویکسین پالیسی کا مسودہ بھی تیار کر لیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر اے پی آئی (Active Pharmaceutical Ingredients) کی تیاری کے لیے روڈمیپ پر کام جاری ہے۔

ڈریپ کے مطابق وزیر اعظم نے دسمبر 2025 میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو اصلاحات پر شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ”ریفارم چیمپئن ایوارڈ“ بھی دیا تھا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں