spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

دل کی صحت کیلئے فش آئل سپلیمنٹس کے حیرت انگیز فوائد

کینیڈا اور آسٹریلیا کے اداروں کی مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ فش آئل سپلیمنٹس لینے سے دل اور قلبی امراض کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، خاص طور پر وہ مریض جو گردوں کی ناکامی پر ڈائلائسز کروا رہے ہیں۔

جریدے نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق فش آئل سپلیمنٹس استعمال کرنے والے مریضوں میں ہارٹ اٹیک، فالج اور قلبی وجوہات سے اموات کے واقعات دیگر مریضوں کے مقابلے میں کم دیکھنے میں آئے۔

فش آئل سپلیمنٹس میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز دل کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مریضوں کو شدید قلبی خطرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تحقیق کے دوران یہ بات بھی واضح ہوئی کہ یہ سپلیمنٹس نہ صرف موجودہ دل کی بیماری کے خطرات کم کرنے میں مؤثر ہیں بلکہ مریضوں کی مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نتائج عام صحت مند افراد پر لاگو نہیں کیے جا سکتے اور ہر شخص کو سپلیمنٹس استعمال کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق دل کی بیماریوں کے علاج اور روک تھام کے میدان میں یہ تحقیق اہم پیش رفت ہے۔ اس کے نتائج دل کی بیماریوں کے علاج میں نئے معیارات قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں