یونان کے جزیرہ کریٹ کے گاؤں آونو وووِس میں 3000 سال پرانا دنیا کا سب سے قدیم زندہ زیتون کا درخت موجود ہے جس میں آج بھی پھل لگتے ہیں۔
یہ درخت ایک قدیم قدرتی عجوبہ ہے اور ہر سال زیتون پیدا کرتا ہے۔ یہ درخت ٹسوناتی قسم کا مقامی درخت ہے، جسے ایک جنگلی زیتون کے درخت پر تین میٹر کی بلندی پر گرافٹ کیا گیا تھا۔ اس کا بڑا تنا 12.5 میٹر (41 فٹ) محیط اور 4.6 میٹر (15 فٹ) قطر کا ہے، جو ایک پیچیدہ ساخت کی مانند دکھائی دیتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی مجسمے کی طرح دکھائی دینے والا یہ درخت وقت کے ساتھ مسلسل بدلتا رہتا ہے۔
اس درخت کی عمر کا صحیح تعین ممکن نہیں کیونکہ اس کا درمیانی حصہ کھوکھلا ہو چکا ہے، جو اس کی غیر معمولی خود تجدید کے عمل کا حصہ ہے۔
درخت کا مرکز سڑتا رہتا ہے، جبکہ نئے لکڑی کے حصے اس کے باہر بڑھتے ہیں، اس طرح درخت کی ساخت اور سائز میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے۔
درخت کی سالانہ رنگ کی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کی عمر کم از کم 2,000 سال ہے، لیکن کریٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس درخت کی عمر تقریباً 4,000 سال ہو سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زیتون کے درختوں کی عمر معلوم کرنے کا کوئی واضح سائنسی طریقہ موجود نہیں ہے لہذا اس درخت کی عمر کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، تاہم پھر بھی اسے دنیا کا سب سے قدیم زیتون کا درخت سمجھا جاتا ہے۔
یہ درخت ہر سال تقریباً 20,000 سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، اور مغربی کریٹ میں ایک محفوظ قدرتی یادگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔


